بھوپال7اپریل: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں وزارتی کونسل کی میٹنگ منگل کے روز وزارت میں منعقد ہوئی۔ وزارتی کونسل کی جانب سے مدھیہ پردیش کی ہمہ جہتی ترقی اور عوامی فلاح کی سمت میں کئی انقلابی فیصلے لیے گئے ہیں۔ ریاست کی ترقی کو نئی رفتار دینے کے لیے ریاستی حکومت نے مختلف ترقیاتی کاموں اور اہم منصوبوں کے لیے کْل 16,720 کروڑ روپے کی منظوری فراہم کی ہے۔ اس میٹنگ میں تعلیم، زراعت، آبپاشی، انتظامی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کے مطابق، بھوپال میں ایک جدید ترین “مالیاتی تربیت و تحقیقی ادارہ” قائم کیا جائے گا، جس سے سرکاری کام کاج میں شفافیت اور مالیاتی نظم و ضبط یقینی ہوگا۔ کسانوں کے مفاد میں آئندہ 3 برسوں کے لیے چنا اور مسور کی خریداری کے واسطے 3,174 کروڑ روپے اور مندسور کی کاتنا مائیکرو اریگیشن پروجیکٹ کو منظوری دی گئی۔ تعلیمی شعبے کو مضبوط بناتے ہوئے آر۔ٹی۔ای کے تحت فیس کی واپسی، پی ایم شری اسکول اسکیم کی توسیع اور کلاس 9ویں سے 12ویں تک کے طلبہ کو مفت کتابوں کے لیے مالی منظوری دی گئی۔ ساتھ ہی، اجین ہوائی پٹی کو ایئربس طیاروں کے موافق ترقی دینے اور دہلی میں پڑھ رہے درج فہرست ذات کے طلبہ کو 10 ہزار روپے ماہانہ امداد دینے جیسے دور رس فیصلے بھی لیے گئے ہیں۔ یہ فیصلے ریاست کی اقتصادی حالت کو مضبوط کرنے اور سماج کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچانے کے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
وزارتی کونسل کی جانب سے مندرسور ضلع کی کاتنا مائیکرو اریگیشن پروجیکٹ کی لاگت رقم 88.41 کروڑ روپے کی انتظامی منظوری فراہم کیے جانے کا فیصلہ لیا گیا۔ اس پروجیکٹ سے مندرسور ضلع کی بھانپورا تحصیل کے 12 گاؤں میں 3500 ہیکٹیئر رقبے پر آبپاشی سہولت کا فائدہ ہوگا۔ وزارتی کونسل کی جانب سے فیصلہ لیا گیا کہ مالیاتی انتظام و انصرام اور مینجمنٹ سے متعلق تمام سطحوں کے عملے کو مرکزی اور معیاری تربیت فراہم کرنے کے لیے مالیاتی تربیت و تحقیقی ادارہ کا قیام آر۔سی۔وی۔پی۔ نرونہا انتظامی و مینجمنٹ اکیڈمی، بھوپال کے کیمپس میں کیا جائے گا۔ ادارے کا مقصد مالیاتی انتظام و انصرام اور مینجمنٹ سے متعلق تمام سطحوں کے عملے کو مرکزی اور معیاری تربیت فراہم کرنا ہوگا، جس سے محکمانہ کارکردگی، مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت میں معیاری بہتری یقینی بنائی جا سکے۔
ریاست میں اس وقت چل رہی 7 اکاؤنٹس ٹریننگ شالاؤں کو مرحلہ وار یکجا کر کے ریاستی سطح کی متحدہ تربیتی نظام قائم کی جائے گی۔ ادارے کے لیے عہدوں کی تخلیق پر ریاستی حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں آئے گا۔ تین برسوں 2026-27، 2027-28، 2028-29 میں قیام اور آپریشن کے لیے مالی لاگت تقریباً 26 کروڑ روپے آئے گی۔
محکمہ تجارتی ٹیکس کی 8 اسکیموں کے لیے 2030-2031 تک تسلسل اور 2952 کروڑ روپے کی منظوری
وزارتی کونسل کی جانب سے محکمہ? تجارتی ٹیکس کے تحت 8 اسکیموں کو 2030-2031 تک جاری رکھنے اور تقریباً 2,952 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس میں مدھیہ پردیش شہری بنیادی ڈھانچہ ترقی فنڈ کو 2026-2027 سے 2030-2031 تک جاری رکھنے اور 1,317 کروڑ 62 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کام، محکمانہ اثاثوں کی دیکھ بھال، آبکاری مواد کی خرید، محکمانہ دکانوں کا آپریشن اور دفتری عمارتوں کی تعمیر کے لیے سال 2026-27 سے 2030-31 تک تسلسل اور 120 کروڑ 98 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی طرح اسٹامپس کی لاگت کے لیے 806 کروڑ روپے اور ہیڈکوارٹر اسٹیبلشمنٹ اخراجات اور ضلعی انتظامی اسٹیبلشمنٹ کے لیے 1,428 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔