اسلام آباد، 7 اپریل (یواین آئی) ایک پاکستانی سکیورٹی عہدے دار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شدت اختیار کرنے کی صورت میں پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی مہلت اور خطے میں بڑھتی کشیدگی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
العربیہ نیوز کے مطابق پاکستانی مسلح افواج نے ایران کی جانب سے سعودی عرب پر مبینہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ” بلا جواز اشتعال انگیزی” قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایسے حملے کسی بھی ممکنہ سفارتی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، تاہم سعودی عرب نے اب تک صبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثالثی کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ پاکستانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب کے خلاف جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو سفارتی حل کے امکانات مزید کم ہو جائیں گے۔









