رائے پور،3 اپریل (یواین آئی ) پہلے ‘کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کا رنگا رنگ اختتام ہو گیا۔ سابق جونیئر عالمی چیمپئن کومالیکا باری (جھارکھنڈ) اور ارجن کھارا (اوڈیشہ) نے تیر اندازی کے مقابلوں میں سونے کے تمغے جیت کر اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ تاہم، انفرادی فتوحات کے باوجود تمغوں کی فہرست میں کرناٹک کی حکمرانی کو کوئی چیلنج نہ کر سکا اور وہ پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے اوور آل چیمپئن بن گیا۔اس ٹورنامنٹ میں 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تقریباً 3800 کھلاڑیوں نے نو کھیلوں میں حصہ لیا۔ تیر اندازی، ایتھلیٹکس، فٹبال، ہاکی، تیراکی، ویٹ لفٹنگ اور کشتی میں کل 106 طلائی تمغوں کا فیصلہ ہوا، جبکہ ملکھمب اور کبڈی نمائشی کھیلوں کے طور پر شامل تھے۔
کرناٹک نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23 سونے، 8 چاندی اور 7 کانسے کے تمغے جیت کر سرفہرست مقام حاصل کیا۔ اوڈیشہ 21 سونے، 15 چاندی اور 21 کانسے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ جھارکھنڈ 16 سونے، 8 چاندی اور 11 کانسے کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔میزبان چھتیس گڑھ نے بھی قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی اور 3 سونے، 10 چاندی اور 6 کانسے کے تمغوں کے ساتھ نویں پوزیشن حاصل کی۔ مردوں کے فٹبال فائنل میں انہیں مغربی بنگال کے ہاتھوں 0-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کرناٹک کی کامیابی میں تیراکی کا کلیدی کردار رہا، جہاں انہوں نے 15 طلائی تمغے جیتے۔ ایتھلیٹکس میں 5 اور کشتی میں 3 طلائی تمغے جیت کر انہوں نے اپنی سبقت کو برقرار رکھا۔ان کھیلوں کے سب سے کامیاب کھلاڑی کرناٹک کے منی کانت ایل رہے، جنہوں نے 8 سونے اور ایک چاندی کا تمغہ جیتا، جبکہ ان کے ساتھی دھونش این نے 5 سونے اور ایک چاندی حاصل کی۔ خواتین میں اوڈیشہ کی انجلی منڈا نے 5 طلائی تمغے جیتے، جبکہ کرناٹک کی میگھانجلی نے 4 سونے اور 2 کانسے کے تمغے اپنے نام کیے۔
آخری دن تیر اندازی کے مقابلوں میں بھی زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ ارجن کھارا نے مردوں کے انفرادی فائنل میں اپنے ہی ریاست کے سومناتھ ہیمبرم کو شکست دی، جبکہ خواتین کے فائنل میں کومالیکا باری نے گجرات کی بھارگوی بھگورا کو ہرا کر جھارکھنڈ کے لیے ایک اور سونے کا تمغہ حاصل کیا۔یوں مجموعی طور پر یہ کھیل ہندوستان کے قبائلی کھلاڑیوں کی غیر معمولی صلاحیتوں اور کھیل کے میدان میں ان کی ابھرتی ہوئی طاقت کا بھرپور مظاہرہ ثابت ہوئے۔ کرناٹک کی جیت میں ان کے تیراکوں اور ایتھلیٹس کا کلیدی کردار رہا۔
، جبکہ اوڈیشہ اور جھارکھنڈ نے ثابت کیا کہ قبائلی علاقوں میں تیر اندازی اور ایتھلیٹکس کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ ان کھیلوں نے بھارت کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو ایک قومی پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔









