کولکاتا 2اپریل :مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے جمعرات کے روز مالدہ میں پیش آنے والے متنازع گھیراؤ واقعے سے خود کو الگ کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کر دی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ریاستی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اب ریاست میں امن و امان کی ذمہ داری ان کے اختیار میں نہیں رہی۔ ان کے مطابق، ’’چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی اب مجھ سے رابطہ نہیں کرتے۔ جب سے میرے تمام اختیارات مجھ سے لے لیے گئے ہیں، امن و امان برقرار رکھنا اب آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘ یہ ردعمل سپریم کورٹ کی اس سخت ریمارک کے بعد آیا جس میں عدالت عظمیٰ نے مالدہ میں عدالتی افسران کے گھیراؤ کو ’’پہلے سے طے شدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ریاستی حکام کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تھے۔ عدالت نے خاص طور پر سینئر افسران کے ردعمل کو ناکافی قرار دیا تھا۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن عدالتی افسران کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ یہ افسران اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ مرشدآباد میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا، ’’میں الیکشن کمیشن کی مذمت کرتی ہوں کہ وہ عدالتی افسران کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔‘‘
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن نے اہم انتظامی اور پولیس عہدوں پر اپنے افسران تعینات کر دیے ہیں، جس سے ریاستی حکومت کا کنٹرول کمزور ہو گیا ہے۔ ممتا بنرجی کا کہنا تھا، ’’میرے تمام اختیارات چھین لیے گئے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا الیکشن کمیشن نہیں دیکھا۔‘‘ ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہے جس سے ریاست میں انتخابات منسوخ ہو جائیں اور صدر راج نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منظم سیاسی سازش ہو سکتی ہے جس کا مقصد مغربی بنگال میں جمہوری عمل کو متاثر کرنا ہے۔