بھوپال:31؍مارچ:(پریس ریلیز)راجدھانی بھوپال کے نظام الدین کالونی میں رہنے والے ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی، صدر نوجوانانِ آبِ حیات نے اپنے ایک بیان میں معروف عالمِ دین مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی اچانک گرفتاری اور بعد ازاں بہرائچ کی مقامی عدالت میں پیشی پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحویل کے دوران مولانا کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ لنگڑاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اس طرح کے مناظر دیکھ کر ہر درد مند دل رنجیدہ ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر قاسمی نے سوال اٹھایا کہ آخر عدالت میں پیشی سے قبل اس نوعیت کی سختی کیوں برتی گئی؟ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں قانون کے نفاذ میں یکسانیت ہونی چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں دوہرے معیار کا تاثر ابھر رہا ہے۔ ایک طرف بعض عناصر کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ دوسری طرف ایسے افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے سابقہ بیانات پر عوامی سطح پر معذرت بھی کر لی ہو۔انہوں نے اس کارروائی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور انصاف کے تقاضوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا عبداللہ سالم چترویدی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، انہیں صحت و عافیت عطا فرمائے اور ہر قسم کی تکالیف سے نجات دے۔









