بھوپال:30جنوری:شریعت اسلامیہ نے جن متبرک راتوں میں جاگنے اور عبادت کے ذریعے انہیں زندہ کرنے کی تعلیم دی ہے، ان میں شعبان کی پندرہویں رات بھی ہے، جسے شبِ برأت کہا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ زمانے سے لے کر صحابہ کرام، تابعین، تبعِ تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین تک ہر زمانے میں اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے اور اللہ کے نیک بندے ہر زمانے میں اس رات کے اندر خصوصی عبادت کا اہتمام فرماتے رہے ہیں مگر یہ اہتمام علی الاعلان اور شور و شغب کے ساتھ نہیں بلکہ سنجیدی و متانت اور سکون و اطمینان کے ماحول میں کیا جاتا تھا،جہاں رضائے الٰہی مقصود اور افعال رسول پیش نظر ہوتے تھے اور بس! مگر آج مسلمانوں کا مزاج ہی الگ ہوگیا ہے ،ہر کام میں شور،اعلان اور شہرت خواہ وہ اپنے لئے ہو یا اللہ کیلئے ۔ یاد رکھئے جب ہماری یہ کیفیت بن جائے تو کوئی بھی نیک عمل، متبرک موقع یا ساعت بھری رات ہمارے حق میں مفید نہیں ہوسکتی۔ ہمیں ہر اس عمل اور طریقہ سے پرہیز کرنا ہوگا جو ہماری نیکیوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیتے ہیں ۔ موتی مسجد بھوپال میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نی مذکورہ باتیں کہیں ۔قاضی شہر نے شعبان المعظم کی پندرہویں شب کے حوالے سے چند مفید اعمال کا مختصر اً ذکر کر تے ہوئے فرمایا کہ طبعی نشاط وتحمل کے بہ قدر جاگ کر عبادت کرنا، مثلاً نوافل، تلاوت، استغفار دعا وغیرہ میں مشغولی اس دھیان کے ساتھ کہ صبح کی نماز متاثر نہ ہو بلکہ عام دنوں کی طرح اس روز بھی فجر کی نماز کا اہتمام باجماعت ہو، شب کی نفلی عبادت سے جسمانی تکان کی وجہ سے اگر نماز قضا ہوگی یا جماعت فوت ہوجائے گی تو رات بھر کا بیدار رہنا اکارت ہوجائے گا۔
پندرہویں تاریخ میں روزہ رکھنا اس کا ثبوت اگرچہ ایک ضعیف حدیث سے ہے لیکن اس اعتبار سے کہ یہ تاریخ ایامِ بیض میں سے ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ ایامِ بیض (13-14-15) میں روزہ رکھا کرتے تھے نیز یکم شعبان سے لے کر ستائیس شعبان تک احادیث میں روزہ رکھنے کی فضیلت وارد ہے۔ اس لئے ان دو وجہوں کی بنا پر اگر پندرہ شعبان میں روزہ رکھا جائے گا تو یقینا موجبِ ثواب ہوگا لیکن اس روزہ میں نفلی روزہ ہونے کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے، نفلی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا رکھنا باعث ثواب ہے اور اس کے ترک پر کوئی گناہ نہیں۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ خوب یاد رکھئے کہ اس شب میں قبرستان جاکر مرحومین کو ایصالِ ثواب کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاکسی کو بتائے ایک مرتبہ جنت البقیع میں تشریف لے جانا ثابت ہے، لہٰذا اتباعِ رسول کے جذبے سے کسی اہتمام اور پابندی کے بغیر اگر قبرستان چلے جائیں تو اجر کا باعث ہے۔ جو چیز رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجہ میں اسے رکھنا چاہئے، اس سے آگے نہیں بڑھانا چاہئے۔
شبِ برأت کے موقع پر یہ وہ امور ہیں جن کا ثبوت اسلامی تعلیمات سے ہے اور شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ ان کو بجالانا اجر وثواب کا ذریعہ ہے، اس رات میں ایسے ہی وقت گزاری کرنا، گلیوں بازاروں اور چوراہوں کو روشن کرنا ، فضول گوئی میں قیمتی وقت خراب کرنا یا کاروں، موٹر سائیکلوں اور پیدل شہر میں گھومنا پھرنا اور تیوہار جیسی شکل بنانا،جیساکہ شہر کے کئی مقامات پر مسلمانوں کی یہ صورتِ حال مشاہدہ میں آتی ہے۔ نہ یہ اسلامی طریقہ ہے اور نہ شرعی اعتبار سے ایسا جاگنا سود مند ہوسکتا ہے ۔
ایسے ہی حلوے کو شبِ برأت سے لازماً جوڑدیاگیا ہے حالاں کہ حلوے کا شبِ برأ ت سے کوئی تعلق نہیں، پورا سال کبھی بھی حلوہ پکایا جائے، بْرا نہیں لیکن خاص طور پر شبِ برأت میں حلوے کا اہتمام نہ قرآن سے ثابت ہے نہ کسی حدیث میں اس کاذکر ہے۔
اس شب میں جس اہتمام سے عبادت کرنی چاہئے، اس سے غافل ہوکر مسلمان آتش بازی،مٹر گشتی اور فضول گوئی میں لگے رہتے ہیں جو یقینی طور پر ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔
بہرحال اْصولی طور پر جو کام ازورئے شرع ثابت ہیں اْن کو ثواب کی نیت سے کیا جائے اور جو فضول چیزیں ہیں اْن سے بچا جائے۔ ہر دین دار مسلمان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منکرات سے خود کو الگ رکھے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اپنے اثر ورْسوخ کو استعمال کرکے اپنے اہلِ تعلق کو بھی ان فضولیات سے بچانے کی ہرممکن کوشش کرے اور اس رات کی قدر کرے ۔
خلاصہ یہ کہ یہ رات شوروشغب اور فضول چیزوں میں لگنے کی رات نہیں بلکہ گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر اللہ سے اپنا تعلق استوار کرنے کی رات ہے۔ دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ جس قدر لمحات آپ نے گزاردیئے وہ عند اللہ بڑے قیمتی ہیں، اس کے یہاں گھنٹوں کا شمار نہیں کیا جاتا کہ میرا یہ بندہ میری یاد میں کتنا بیدار رہا؟ اور کتنے گھنٹے اس نے میری عبادت کی؟ بلکہ وہاں معیارِ کامیابی اور مقبولیت کی کسوٹی بندہ کا اخلاص ہے کہ وہ کس صالح جذبے سے اللہ رب العزت سے لو لگائے ہوئے ہے،اسی لئے بعض نیک بندوں کا چند گھنٹے یاکچھ دیر بیدار رہنا بعض کی پوری رات جگ کرگزارنے سے بہتر ہوتا ہے، ہم اپنا اور اپنے گھر کا ماحول دین کے موافق بنائیں گے تو یقینا خیر وبھلائی کے ثمرات ظاہر ہوں گے۔ بس اصل نظر اس پر رہنی چاہئے کہ کوئی بھی عمل اپنی عقل اور شوق کے مطابق کرنے کا نام دین نہیں بلکہ دین اصل اتباعِ شرع کا نام ہے، شریعت اسلامیہ کی تعلیمات وہدایات کی پیروی کرنے کا نام دین ہے۔ ہم لوگ اپنی عملی زندگی میں قدم بہ قدم اسی پہلو کو مدنظر رکھیں کہ یہی کامیابی کی کنجی ہے اوراسی میں دونوں جہاں کی کامیابی مضمر ہے۔