بھوپال:24؍مارچ:(پریس ریلیز) مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ، دھار کے ذریعے ’’سلسلہ‘‘کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 23 مارچ 2026 کو ہوٹل ترمورتی ان، دھار میں ضلع کوآرڈینیٹر انیتا مکاتی کے تعاون سے کیا گیا۔
دھار میں منعقدہ “سلسلہ” کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ دھار مدھیہ پردیش کا ایک تاریخی اور ادبی اعتبار سے ثروت مند شہر ہے، جہاں کے شعرا و ادبا نے اپنی تخلیقات کے ذریعے معاشرے کو جوڑنے کا قابلِ ستائش کام کیا ہے۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی ’سلسلہ‘ کے تحت یہاں ہر سال سینئر اور نوجوان صلاحیتوں کو اسٹیج فراہم کر کے ادبی اظہار کے مواقع دستیاب کراتی ہے، جس سے روایت اور جدیدیت کے درمیان معنی خیز مکالمہ قائم ہو سکے۔
شری لنکا سے آئیں ریسرچ اسکالر سوبھاشنی رتنایکہ کی موجودگی اردو اور ہندوستانی ادب کی عالمی قبولیت کا ثبوت ہے۔ اکادمی ’سلسلہ‘ کے ذریعے پوری ریاست میں ایسی ہی ادبی بیداری کو مسلسل ثروت مند کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دھار ضلع کی کوآرڈینیٹر انیتا مکاتی نے بتایا کہ سلسلہ کے تحت شام 6:00 بجے ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت دھار کے استاد شاعر شاعر محمد اکرم دھاروری نے کی۔ وہیں مہمان خصوصی کے طور پر سری لنکا سے تشریف لائیں ریسرچ اسکالر سوبھاشنی رتنائکہ اور مہمان ذی وقار کے طور پر نگر پالیکا سی ایم او کے وی سنگھ اسٹیج پر جلوہ افروز رہے ۔ اس موقع پر اکرم دھاروری نے دھار کے ادبی و شعری منظرنامے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے اہم شعرا میں حیات ہاشمی، تبسم دھاروی، اظہار شادانی، شانتی صبا دھار ایسے دھاردار شاعر ہوئے ہیں جو ہندوستان بھر میں اپنی عمدہ شاعری کے لیے مشہور رہے اور جن کی بدولت دھار کا نام ملک سمیت بیرون ممالک میں بھی پہنچا۔
شری لنکا سے پریم چند پر پی ایچ ڈی کرنے آئیں سوبھاشنی رتنایکہ نے کہا کہ انہیں پریم چند کی تخلیقات ’گودان‘، ’کفن‘، ’عیدگاہ‘ وغیرہ پڑھ کر اور فلمی گیت ’چھایا چھایا‘ سن کر اردو سے محبت ہوئی۔
اردو نہایت شیریں زبان ہے۔ انہوں نے پریم چند کے ادب میں تبدیلی دیکھی تو وہ اسے دیکھنے کے لیے ہندوستان تک آئیں اور انہوں نے ہندوستان آنے کے بعد یہیں کے ہو جانے کی بات بھی کہی کہ جو بھی یہاں آتا ہے وہ یہیں کا ہو جاتا ہے، یہاں کے لوگوں جیسی مہمان نوازی میں نے کسی ملک میں نہیں دیکھی۔
شعری نشست میں جن شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ان میں اسرار دھاروی، نوین ماتھر پنچولی، نظر دھاروی، شاہد سلام صابری، شبیر شاداب، رام پرندہ، شیرین قریشی، دیپیندر پاتھک، آشیش تریویدی، نتیندر منڈاول، کیلاش چندر بنسل، پرتیوش چوہان، گوری پوار، مہیش دانگی، سندیپ یادو کے نام شامل ہیں۔
پیش کیے گئے چند اشعار:
شعلوں کا ساتھ دو نہ شراروں کا ساتھ دو
مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو
دریا کے دو کنارے ہیں رحمان اور رام
گر ہو سکے تو دونوں کناروں کا ساتھ دو
نظر دھاروی
بکھرتے ٹوٹتے رشتے بحال کر لونا
کبھی تو ترک یہ جاہ و جلال کر لونا
اسرار دھاروی
رات اب کس طرح بتائیں گے
ان چراغوں میں روشنی کم ہے
نوین ماتھر
بیٹھے بیٹھے گر جاتے ہیں آنسو کیوں تنہائی میں
جانے کتنے درد چھپے ہیں آنکھوں کی گہرائی میں
شاہد سلام صابری
ہے یہی شرط بندگی کے لیے
سر جھکاؤں تری خوشی کے لیے
ڈاکٹر شیرین قریشی
مسکرا نا زندگی ہے اور ہنسا نا زندگی ہے
کام کر دینا سہج میں اور بہانا زندگی ہے
رام پرندہ
پروگرام کی نظامت کے فرائض ضلع کوآرڈینیٹر انیتا مکاتی نے بحسن خوبی انجام دیے۔پروگرام کے آخر میں انھوں نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔