بھوپال:18؍مارچ:بھوپال – انسانیت، اصلاح اور روحانیت کا ایک بار پھر دل کو چھو لینے والا منظر سینٹرل جیل بھوپال میں دیکھنے کو ملا، جب خُدّامِ ملّت کی جانب سے اس سال بھی اجتماعی روزہ افطار کا شاندار اہتمام کیا گیا۔ یہ سلسلہ اب مسلسل 16 برسوں سے جاری ہے، جسے کمیٹی کے کنوینر مفتی سید دانش پرویز ندوی بڑی لگن اور اہتمام کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔قابلِ ذکر ہے کہ مفتی سید دانش پرویز ندوی گزشتہ 16 برسوں سے مدھیہ پردیش کی سینٹرل جیل بھوپال میں افطار پروگرام منعقد کرتے آ رہے ہیں، جو اپنے آپ میں ایک منفرد اور مثالی سماجی و دینی خدمت ہے۔ اس تسلسل نے اس پہل کو محض ایک تقریب نہیں بلکہ قیدیوں کی اصلاح اور سماجی بہتری کا مضبوط ذریعہ بنا دیا ہے۔سینکڑوں قیدیوں اور جیل اسٹاف کی موجودگی میں جب تقریر اور افطار کا اہتمام ہوا تو پورا ماحول روحانی اور جذباتی ہو گیا۔ یہ صرف افطار نہیں بلکہ قیدیوں کے دلوں میں امید اور اصلاح کی نئی روشنی جگانے والا لمحہ تھا۔اس موقع پر شہر کے نوجوان عالمِ دین قاری سید شاہویز پرویز ندوی نے قیدیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک نہایت اثر انگیز اور دل کو چھو لینے والی تقریر کی۔ انہوں نے قیدیوں کو اپنی غلطیوں سے توبہ کرنے، اپنی زندگی کو سنوارنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی نصیحت کی۔ان کی تقریر کا قیدیوں پر گہرا اثر پڑا اور کئی قیدی آنکھوں میں آنسو لیے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے نظر آئے۔افطار کے بعد قاری سید شاہویز پرویز ندوی نے ہی قیدیوں کو نمازِ مغرب ادا کروائی اور اس کے بعد ایک روح کو جھنجھوڑ دینے والی دعا کرائی۔اس دعا کے دوران قیدیوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور پورا ماحول آنسوؤں اور توبہ کی سسکیوں سے گونج اٹھا۔اس خاص موقع پر خُدّامِ ملّت کمیٹی کے سرپرست جناب سید پرویز خلیل صاحب اور ملٹی ہینڈز ٹو ہیلپ کے صدر انجینئر فراز خان بھی موجود رہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر سماجی اور دینی شخصیات نے بھی شرکت کی اور اس پہل کو بہت سراہا اور قابلِ تعریف قرار دیا۔خُدّامِ ملّت کے کنوینر مفتی سید دانش پرویز ندوی کا یہ اقدام صرف افطار تک محدود نہیں بلکہ قیدیوں کے اندر اصلاح، توبہ اور نئی زندگی کی امید پیدا کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔سینٹرل جیل بھوپال میں منعقد ہونے والا یہ افطار پروگرام اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو تو سلاخوں کے پیچھے بھی انسانیت، رحمت اور ہدایت کی روشنی پھیلائی جا سکتی ہے۔