بھوپال:13مارچ: اللہ وحدہٗ لاشریک کا بے پایاں فضل ہے کہ اس نے ہمیں اور آپ کو رواں ماہ مقدس کا چوتھا جمعہ ادا کرنے کا موقع اور توفیق بخشی ۔رمضان المبارک کے تین جمعے یوں گزر گئے ،لگتا ہے تین جمعے نہیں ابھی تین دن گزرے ہیں۔آج ہم ماہ مقدس کے چوتھے جمعہ کی نماز ادا کرنے اللہ کے گھر میں حاضر ہوئے ہیں ۔ میرے محترم بزرگو اور بھائیو ! رمضان المبارک کاچوتھا جمعہ مسلمانوں میں جمعۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے ۔ جب کہ شرعاً ایسا ہے نہیں ۔جو اہمیت و مرتبہ باقی جمعوں کو حاصل ہے وہی جمعۃ الوداع کو بھی حاصل ہے ۔جمعۃ الوداع کی الگ سے کوئی اہمیت و فضیلت نہیں ۔ رسول اکرم ﷺ نے جمعہ کے جس قدر فضائل بیان فرمائے ہیں اس میں جمعۃ الوداع کی کوئی تخصیص نہیں فرمائی ۔جمعہ کی اذان سے نماز کے اختتام تک جتنے اعمال و افعال بجالائے جاتے ہیں بس اتنے ہی اعمال و افعال جمعۃ الوداع میں بھی انجام دیئے جاتے ہیں ،معلوم ہوا کہ جمعۃ الوداع کو باقی جمعوں پر کوئی امتیاز و برتری حاصل نہیں ۔ البتہ جمعۃ الوادع کا اطلاق ہم آپ پر ہوسکتا ہے اور ہم میں سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ جمعہ اس کیلئے آخری جمعہ ہوسکتا ہے ۔ہم میں ایسے بہت سے ایمان والے بھائیوں کو گزشتہ جمعہ نصیب ہوا مگر یہ جمعہ نہیں ملا ہوگا ۔لہذا کسی جمعہ کو آخری جمعہ اپنے لئے سمجھا جاسکتا ہے مگر وہ جمعہ بذات خود آخری جمعہ نہیں ،ہر سال رمضان آئے گا اور جمعہ بھی۔مذکورہ باتیں آج موتی مسجد بھوپال میں قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے اپنے خطاب میں فرمائیں۔
قاضی شہر نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ میں اکثر یہ بات کہتا رہتا ہوں کہ جمعہ کی بڑی فضیلت ہے ،سورۃ الجمعہ میں جمعہ کے آداب بیان کئے گئے ہیں اور احادیث میں اس کی صراحت موجودہے کہ جمعہ کے دن جو شخص سب سے پہلے مسجد میں آتا ہے اسے ایک اونٹ کے برابر ثواب عطا کیا جاتا ہے بعدہٗ گائے ،بکری، مرغی اور انڈا کے برابر،اس کے بعد فرشتے اندراج کا رجسٹر بند کرکے خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔ رسول برحق ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن 6کاموں کا اہتمام کرے تو اس کیلئے ہر قدم کے عوض ایک سال کے نفل روزے اور نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے (۱) غسل (۲) جلدی مسجد میں آنا(۳)پیدل آنا(۴)امام کے قریب بیٹھنا(۵)خطبہ سننا((۶) مسجد میں داخل ہونے سے لے کر مسجد سے نکلنے تک خلاف شرع عمل سے بچنا۔قاضی شہر نے آداب جمعہ اور آداب مسجد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یقیناً جمعہ کو ملنے والے والے بے پناہ ثواب میں آپ تمام لوگوں کا اپنے اپنے اعمال کے حساب سے حصہ ہے ،جو بڑی اچھی اور حوصلہ افزا بات ہے ۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سے اپنی جتنی فرماں برداری کرا لے ہمارے لئے اتنی ہی خوش نصیبی کی بات ہے۔ اللہ کا فضل تو دیکھئے وہ ہمیں نیکیوں کے حصول کے کیسے کیسے مواقع عنایت فرماتا ہے ۔ 24 گھنٹے میں 5نمازیں دیں، سید الایام کے نام سے یوم جمعہ دیا،رمضان کے 30انتہائی متبرک شب و روز دیئے اور کرم کی انتہا دیکھئے رمضان کے 30 مبارک ایام میں عشرہ آخیرہ کے 10دن ایسے عطا کئے کہ آپ تصور نہیں کرسکتے یہ دس دن کتنی فضیلتوں والے ہیں ۔ ان دس دنوں کی طاق راتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو رکھ دیاجس کے بارے میں قرآن مقدس نے فرمایا کہ یہ رات ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔اس رات رسول اکرم ﷺ نے بکثرت عبادت کیہے اور اپنی امت کو تلقین فرمائی ہے کہ اس رات سے جس قدر ہو فائدہ اٹھایا جائے ،عبادتیں کی جائیں، تسبیح و تہلیل کی جائے ،توبہ و استغفار کیا جائے ، اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش کی تضرع و عاجزی کے ساتھ دعا کی جائے۔یقیناً اللہ کی ذات بخشنے والی ہے ۔عشرۂ آخر میں اعتکاف بھی ایک بڑی اہم عبادت اور اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے ۔اللہ کا شکر ہے کہ موتی مسجد میں بھی کئی لوگ اعتکاف میں بیٹھ کر محو عبادت ہیں ۔اللہ ان کی عبادت قبول فرمائے ۔قاضی شہر نے نماز عید سے قبل صدقہ فطر کی ادائیگی کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ صدقہ فطر ہر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس 612گرام چاندی یا اس کے برابر نقد موجود ہو، صدقہ فطر اپنی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے واجب ہے،یاد رہے کہ بالغ اولادیں اور بیوی خود اپنا صدقہ فطر اداکریں گی ۔صدقہ فطر کی مقدار آدھا ساع گندم (ایک کیلو چھ سو 33 گرام) جس کی نقد قیمت 70روپئے مقرر کی گئی ہے جب کہ کھجور ایک ساع(3کیلو دو سو چھیاسٹھ گرام) ہے ۔ نماز عید کی عید گاہ کے اندرادائیگی کو مسنون بتاتے ہوئے قاضی شہر نے فرمایا کہ ہادی برحق ﷺ نے اپنی پوری حیات نماز عیدین عید گاہ میں ادا کی۔ آپ حضرات بھی سنت رسول پر عمل کی پوری کوشش کریں۔اوقات نماز عید کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے قاضی صاحب نے فرمایا کہ عید گاہ میں 7.30، جامع مسجد میں 7.45 اور موتی مسجد میں 8.15کا وقت متعین کیا گیا ہے ۔ مقررہ وقت سے قبل تشریف لاکر سکون و اطمینان سے بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہوکر اپنی بندگی کا اقرار و اظہار کریں۔