رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں انسان کو صبر، شکر، ایثار اور اعتدال کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے اندر ضبطِ نفس، ہمدردی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ رمضان کے بعض اعمال و معمولات میں ہم نے ایسی تبدیلیاں کردی ہیں جنہوں نے اس مقدس مہینے کی اصل روح کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ افطار پارٹیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ہے، جو اب کئی جگہوں پر سادگی اور عبادت کے بجائے نمود و نمائش اور سماجی و سیاسی تشہیر کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
اسلام میں افطار کا تصور نہایت سادہ اور بابرکت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے روزہ کھولنے کے لیے کھجور یا پانی کو کافی قرار دیا اور سادگی کو پسند فرمایا۔ احادیث میں اس بات کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے اسے روزہ دار کے برابر اجر ملتا ہے۔ مگر اس تعلیم کا مقصد کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ افطار کو تکلفات، مقابلۂ شان و شوکت اور دولت کی نمائش کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ بڑے شہروں میں مہنگے مہنگے شادی ہال، ہوٹلوں، فارم ہاؤسز اور شاندار مقامات پر ہونے والی افطار پارٹیاں ایک فیشن کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ درجنوں قسم کے کھانے، سجاوٹ کے خصوصی انتظامات اور سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر اب ایک عام منظر بن چکی ہے۔
یہ رجحان اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ رمضان دراصل ہمیں بھوک کا احساس دلا کر معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے قریب لانے کے لیے آتا ہے۔ روزہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم ان لوگوں کی تکلیف کو سمجھیں جو سال کے بارہ مہینے بھوک اور محرومی کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن جب افطار کے دسترخوان صرف امیروں اور بااثر لوگوں کے لیے مخصوص ہو جائیں اور ان پر لاکھوں روپے خرچ ہونے لگیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل رمضان کے پیغام کے مطابق ہے؟
قرآنِ مجید میں واضح طور پر اسراف اور فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘ رمضان تو ویسے بھی ضبطِ نفس اور اعتدال کی تربیت کا مہینہ ہے، ایسے میں افطار کے نام پر بے جا اخراجات اس مہینے کی روح کے بالکل خلاف ہیں۔ اگر انہی تقریبات پر خرچ ہونے والی رقم کا کچھ حصہ بھی ضرورت مندوں تک پہنچ جائے تو بے شمار غریب خاندانوں کے چولہے جل سکتے ہیں اور کئی بچوں کے چہرے خوشی سے روشن ہو سکتے ہیں۔
ایک اور پہلو جو قابلِ توجہ ہے وہ یہ کہ بعض افطار تقریبات اپنی اصل روح سے ہٹ کر محض سماجی میل جول، فیشن اور دکھاوے کا منظر بن جاتی ہیں۔ بعض جگہوں پر ان اجتماعات میں وہ سنجیدگی، وقار اور روحانیت نظر نہیں آتی جو رمضان کے ماحول کا تقاضا ہے۔ حالانکہ یہ مہینہ انسان کو حیا، سادگی اور باطنی اصلاح کا درس دیتا ہے۔ اگر افطار کے اجتماعات میں یہی اقدار مفقود ہو جائیں تو یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔
سیاسی میدان میں بھی افطار پارٹیوں کا ایک خاص کردار نظر آتا ہے۔ رمضان کے دوران مختلف سیاسی شخصیات اور جماعتیں بڑی بڑی افطار پارٹیوں کا اہتمام کرتی ہیں جن میں اکثر اصل مقصد خدمت یا عبادت کے بجائے سیاسی روابط مضبوط کرنا یا عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح مذہبی جذبے کو کبھی کبھی سیاسی مفادات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو یقیناً رمضان کی روح کے منافی ہے۔
اس صورتِ حال کا مطلب یہ نہیں کہ افطار کے اجتماعات منع ہیں یا لوگوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر روزہ کھولنے سے روکا جائے۔ اسلام تو اجتماعی افطار اور باہمی محبت کو پسند کرتا ہے۔ اصل مسئلہ نیت ،انداز اور طرزِ عمل کا ہے۔ اگر افطار کا مقصد اللہ کی رضا، اخوت اور خدمتِ خلق ہو تو یہ نہایت بابرکت عمل ہے۔ لیکن اگر اس کا مقصد صرف لوگوں کو متاثر کرنا یا سماجی برتری دکھانا ہو تو اس کی روح باقی نہیں رہتی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم افطار کے تصور کو دوبارہ اس کی اصل روح کے مطابق زندہ کریں۔ مساجد میں سادہ اجتماعی افطار کا اہتمام، محلوں میں غریب خاندانوں تک راشن پہنچانا، یتیم بچوں اور مزدوروں کے ساتھ افطار کرنا، اسپتالوں میں مریضوں کے تیمارداروں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا — یہ سب وہ کام ہیں جو رمضان کے پیغام کو عملی شکل دیتے ہیں۔ اگر معاشرہ اس سمت میں قدم بڑھائے تو افطار واقعی ایک مثبت سماجی تحریک بن سکتی ہے جو محبت، مساوات اور ہمدردی کو فروغ دے۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ صاحب ثروت حضرات رمضان کے علاوہ بھی اپنی وسعت کے مطابق قوم کی تعلیمی اور مالی پسماندگی پر نظر کریں۔ قوم میں تعلیم کی شرح کم ہوتی جارہی ہے ،اہم تقاضہ یہ ہے کہ قوم کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے ان کی معاونت کی جائے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں کہ ہماری افطار اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہے یا صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے؟ رمضان کا اصل پیغام ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ عزت سادگی میں ہے، برکت اعتدال میں ہے اور حقیقی خوشی دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں ہے۔ جب افطار کے دسترخوان پر غریب اور امیر ایک ساتھ بیٹھیں گے، جب دکھاوے کے بجائے اخلاص کو اہمیت دی جائے گی، تب ہی رمضان کی حقیقی روح ہمارے معاشرے میں زندہ ہو سکے گی۔
پیشکش: بے نظیر انصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی(اُسیا ریسورٹ/کوینس ہوم احمدآباد پیلس روڈ، بھوپال)