تہران،9 مارچ (یواین آئی )تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 28 فروری سے جاری مسلسل فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے دارالحکومت تہران میں واقع مشہور ‘آزادی اسپورٹس کمپلیکس پر امریکی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے عالمی فٹبال ریگولیٹری ادارے (فیفا) سے باضابطہ اور سخت احتجاج کیا ہے۔
ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تباہ شدہ اسٹیڈیم کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے عالمی برادری بالخصوص کھیلوں کی تنظیموں کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیفا کی جانب سے دیے گئے حالیہ ‘پیس پرائز’ کا حوالہ دیتے ہوئے شدید طنز کیا کہ امن انعام پانے والے ملک کے صدر کے حکم پر فٹبال کے میدانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ فیفا اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اس کھلی جارحیت پر اپنا واضح موقف پیش کریں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دسمبر میں عالمی تنازعات کے خاتمے کی مبینہ کوششوں پر فیفا کی جانب سے نو متعارف شدہ ‘پیس پرائز’ سے نوازا گیا تھا۔ تہران کی جانب سے اس وقت بھی اس ایوارڈ پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جبکہ اب کھیلوں کے میدانوں کی تباہی نے اس تنازع کو مزید ہوا دے دی ہے۔