اقبال مسعود(بھوپال)
9827089881
وہ اسلام کی خاطر زندہ رہا اور اسلام کی خاطر شہید ہوضروری نہیں کہ ہم ان کے قاعدے اور طرز حکومت سے اتفاق کریں لیکن اس نے دنیا کو دکھایا کی چیلینجیز کے سامنے کیسے سینہ تان کر کھڑا ہوا جاسکتا ہے چاہے مٹ جانے مر جانے کا خطرہ ہی کیوں نا موجود ہو۔
ایران کے بہت سارے لوگوں کو اس سے اختلاف تھا ناراضگی تھی گزشتہ ماہ تک ہی ایرانی شہر اس کے خلاف مظاہروں کا مرکز بنے ہوئے تھے،اسپر مظاہرین کے خلاف سخت ترین کاروائی کرنے کے الزامات لگائے گئے تاہم ملک کے بڑے حصہ میں اور بلخصوص دیہی علاقوں میں وہ عوام کے محبوب تھے اور عزت تو اتنی تھی کہ کوئی بھی حکمراں ایسی عزت کےلئے ترستے ہیں۔
اور انجام کار وہ ایک میزائل حملے میں شہید ہوگیا،تنہا نہیں ,اس کے ساتھ اس کی بیوی،بیٹی اس کا داماد،اس کی بہؤ،اس کی پوتی اور نا جانے کتنےلوگ شہید ہوگئےاس کے مخالفین بھی معترف ہوں گے کہ موت اور شکست کو سامنے دیکھ کر بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے موت بھی اس کی ہستی کو جھکا نہیں سکی۔
امریکہ کی نظریں اس کے ملک کے یورینم پر تھیں،اس کےپیٹرولیم ذخائر پر تھی اور اس کی جغرافیائی حیثیت و اہمیت پر تھی، ایک اندازے کے مطابق ایران کے پاس تقریبا 300ٹن قدرتی یورینیم کے ذخائر موجود ہیں،تیل کے ذخائر کی تو بات ہی کیا امریکی کمپنیاں انپر حریصانہ نظر جمائے بیٹھی ہیں، اور اس پر قبضہ جمانے کےلئے ہر حد کو پار کر نے کےلئے امادہ ہیں چاہے کوئی زندہ رہے یا مرجائے ان کی بلا سے۔ایرانی قیادت کے سربراہ اعلی ہونے کی حیثیت سے وہ کیا کرتے؟ کیا امریکہ و اسرایئل کے سامنے سر نگوں ہوکر اپنی جان اور اپنے اقتدار کو بچاتے اور تاریخ کے کوڑے دان کاحصہ بن جاتے۔
امریکہ چاہتا تھا کہ ایران میں ایسی حکومت قائم ہو جو اس کے زیر نگیں کٹھ پتلی کی طرح کام کرے،امریکی کمپنیوں کو اس کائنات کی تمام اشیا پر مالکانہ حق مطلوب ہے اس کے لئے ا نھیں چاہے کچھ بھی کرنا پڑے امریکہ میں جمھوری طریقہ سے منتخب کی گئی قیادت ۔مذکورہ کمپنیوں کے اشارہ پر دنیا بھر میں ہڑ دنگ پھیلاتے ہیں اور اس طوفان بدتمیزی کو وہ ا نسانیت کی حفاظت،جمہوریت کی بقا اور بین الاقومی اصولوں کی پاسداری قرار دیتے ہیں۔تاہم جدید عہد کی تاریخ میں انسانیت کا جس نے بدترین اور شرمناک طریقہ سے استحصال کیا ہے وہ امریکہ ہے۔دوسرے آزاد و خود مختار ممالک کی حکومتوں کو اپنے زیرتسلط لانے کے لئے سب سے بڑا رول امریکہ کا ہے ہمارے عہد کی تاریخ امریکی سازشوں اور استحصال کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔
امریکہ نے دنیا کو دکھایا ہے کہ نیا سامراجی نظام کتنا ظالم، کتنا انسان مخالف کتنا شرمناک سازشی اور بےحس ہوسکتا ہے، اس نے بے بنیاد الزامات اور دروغ گوئی سے عراق کو خاک میں ملایا اپنے مقابل تن کر کھڑے ہونے والے صدام حسین کو قتل کیا اور اسکی دروغ گوئی کی حمایت میں یورپ نے سر میں سر ملایا اور مغر بی میڈیا نے خبروں کو پروپگنڈہ میں بدل کر صحافت کے اصولوں کو قتل کرنے میں ذرہ بھر بھی شرم محسوس نہیں کی بلکہ ببانگ دہل د نیا کو یقین دلاتا رہا کہ صدام حسین نے رسیانک اسلحہ کا ذخیرہ جمع کررکھا ہے جو انسانیت کےخلاف جرم ہے۔
خلیجی جنگ ایک طرف امریکی قیادت میں ناٹو ممالک کی متحدہ فوج اور دوسری طرف تنہا عراق ظاہر ہے کہ شکست لازم تھی صدام کو پھانسی دی گئی۔بعد میں دنیا کو معلوم ہوا کہ رسیانک اسلحہ کا تو کوئی وجود ہی نا تھا اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ناٹو کی طاقت کاڈنکا بج گیا اور کسی کو اخلاقی طور پر اعتراف کرنے کی ہمت بھی نا ہوئی سوائے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر کے جس نے اس جھوٹ کا پردہ فاش ہونے پر اپنے ملک اور عالمی برادری سے معافی مانگی تھی۔
کرنل معمرقدافی کا حشر ہم سب جانتے ہیں وہ امریکہ کے دل میں کا نٹے کی طرح کھٹکتا تھا اور جو امریکہ کو پسند نہیں اس کی خیر نٰہیں امریکہ اب جدید سامراجواد کی علامت بن گیا ہے اور امریکی کمپنیاں دنیابھر کے بازاروں پر قابض ہونے کےلئے امریکی اقتدار اور حکومت سے اپنیے مفادات کے لئے کام کراتی رہتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کی دنیا بھر کے امن پسند شہری نالاں ہیں ان کا جینا دوبھر ہوگیا ہے
ایران بھی امریکہ کے مقابل سینہ تان کر کھڑاہےیہ نیو کیپیٹل ازم کے خلاف سچ مچ کا خطرہ ہے ۔ امریکہ اس صورت حال کو بدلنے کےلئے اورایرانی رجیم کو چینج کرنے کےلئے اسرائیل کے تعاون سے (جسکے عظیم اسرایئل کے خواب کے مکمل ہونے کی راہ میں ایران سب سے بڑاخطرہ ہے)اور سعودی عرب کےپس پردہ حمایت سے جوسعودی حکومت کےعالم اسلام کی قیادت کی شدید تمنا کی راہ کا سنگ گراں ہے ایران کے خلاف میدان جنگ میں کود پڑا ہے جو اب ریچھ کا کمبل بنتی جارہی ہے۔
86 سالہ خامنہ ای نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے جسکی مثال دنیا بھر میں دی جاتی تھی اور ایران میں ان کے تئیں جو عقیدت کے جذبات تھے وہ شاذ و نادر ہی کسی کو نصیب ہوتے ہیں انھو نے اپنی پوری زندگی اپنے اصوں اور اپنے اعتقاد کے ساتھ گزاری,1979کے اسلامی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک تھے اور1989میں آیت اللہ خومینی کی رحلت کے بعد ملک کے اقتدار اعلی کے منصب پر فائیز ہوئے، وہ زندگی بھر امریکہ کی سرمایہ دارانہ فکر اور قیادت کے خلاف نبرد آزما رہے اگرچہ امریکی پابندیوں نے ایرانی اقتصادیات کو نقصان پہونچایا مگر انھوں نے ایران کے دیہی علاقوں کی بہبودی و ترقی کے جو مبصوبے بنائے اور جس طرح ان پر عمل کیا اس سے انکو بےپناہ عزت اور مقبولیت حاصل ہوئی یہ عزت اور مقبو لیت جب بھی برقرار رہی جب حالیہ مظاہروں نے ان کے اقتدار کے لئے سنگین مسائل پیدا کئے۔ خامنہ ای سامراج کی طاغوتی قوتوں کے خلاف سر خم نا کرنے والے ہیرو کی شکل میں تاریخ کے صفحات میں درج ہوگئے ہیں ان کے ملک کی داخلی صورت حال اور امریکہ و اسرائیل کے خارجی چجلنجز نے ان کی مشکلات میں ضرور اضافہ کیاتھا تاہم ان کے عزائم ان کی فکر ,ان کے اصول اور ایمان کبھی متزلزل ہوا نا پائے استقامت لرزا ۔اخرکار ان کا آخری وقت آگیا ان کی خواہش کے مطابق اللہ باری تعالی نے شہادت نصیب کی اور وہ اپنی خود داری استقامت اور عزت نفس کے اپنے مذہب اور ملک کےلئے اس شان کے ساتھ اور دنیا کو یہ بتاتے ہوئے گئے کہ؎
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان نے ملائیشیا کو 3-5 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی
مسقط، 2 مارچ 2026 (یو این آئی) پاکستان ہاکی ٹیم نے ایف آئی ایچ مینز ورلڈ کپ کوالیفائر راؤنڈ کے دوسرے میچ میں ملائیشیا کو 3 کے مقابلے میں 5 گول سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔پاکستان کی جانب سے رانا وحید اشرف، زکریا حیات، احمد ندیم، محمد سفیان خان اور محمد عمار نے ایک، ایک گول اسکور کیا۔ملائیشیا کی جانب سے عبدالرؤف، احکم اللہ اور فطری ساری نے ایک، ایک گول اسکور کیا۔
تاہم ٹیم میچ میں شکست سے نہ بچ سکی۔اس کامیابی پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی، ایڈہاک گورننس اینڈ مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین اصلاح الدین صدیقی، اولمپین حسن سردار اور چیف سلیکٹر سمیع اللہ خان نے پاک ٹیم کو مبارکباد دی۔پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائر راؤنڈ کا تیسرا میچ 4 مارچ کو آسٹریا کے خلاف کھیلے گی۔









