بھوپال، 2 مارچ: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین مکیش نائیک اور ریاستی ترجمان راہل راج نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں محکمہ آبی وسائل میں مبینہ ’پرسنٹیج راج‘، فکس ٹینڈر ماڈل اور وسیع پیمانے پر بدعنوانی کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمے میں ٹینڈر کا عمل مکمل طور پر ٹھپ ہے جس کی وجہ سے آبپاشی کے منصوبے رکے ہوئے ہیں اور کسانوں کے نام پر کمیشن کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
مکیش نائیک نے باضابطہ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 300 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے بڑے ٹینڈروں میں پہلے سے ہی کمیشن کا فیصد طے کر لیا جاتا ہے اور اگر یہ مبینہ ’حساب‘ اعلیٰ سطح اور انتظامی سطح پر پورا نہ پہنچے تو ٹینڈر کا عمل روک دیا جاتا ہے۔ انہوں نے محکمہ آبی وسائل کے وزیر تلسی سلاوٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ نوشاد نامی شخص، جو سرکاری ملازم نہیں ہے، کا محکمے کے فیصلوں میں کیا کردار ہے اور اس کا وزیر سے کیا تعلق ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کمل ناتھ حکومت میں بلیک لسٹ کی گئی حیدرآباد کی مونٹینا نامی کمپنی اب الگ الگ ناموں سے ٹینڈر کے عمل میں کیسے شامل ہو رہی ہے اور اس پورے نیٹ ورک میں راجو مونٹینا کا کیا کردار ہے، نیز کیا دبئی میں کوئی مشترکہ کاروبار یا معاشی لین دین چل رہا ہے۔
کانگریس نے الزام لگایا کہ کھرگون، علی راج پور، جھابوا اور دیگر اضلاع کے بڑے آبپاشی منصوبوں میں صرف گنی چنی 11 یا 12 کمپنیاں ہی بار بار ٹینڈر ڈالتی ہیں اور آپسی ملی بھگت سے کبھی کوئی کمپنی ایل ون اور کبھی ایل 2 بن جاتی ہے، جس سے حقیقی مسابقت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ان کمپنیوں میں ایل سی سی پروجیکٹس، مونٹینا انفراسول، نویوگا انجینئرنگ، میگھا انجینئرنگ اور ایل اینڈ ٹی جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ پریس کانفرنس میں یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا گیا کہ سائٹ پر مواد پہنچے بغیر ہی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، معیاری ڈی آئی پائپوں کی جگہ غیر معیاری ایچ ڈی پی ای پائپ بچھائے جا رہے ہیں اور ایل ون قرار دیے جانے کے بعد ادائیگی میں مبینہ طور پر 2 فیصد کی کٹوتی کی جاتی ہے جو کہ مالی بدعنوانی کے ساتھ ساتھ تکنیکی دھوکہ دہی بھی ہے۔ مکیش نائیک نے حکومت کی جانب سے زرعی سال کے اعلان اور آبپاشی کا رقبہ بڑھانے کے دعوؤں کو کسانوں اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ٹینڈر ہی نہیں لگیں گے تو کسانوں تک پانی کیسے پہنچے گا۔
ریاستی ترجمان راہل راج نے 2023-24 کے ٹینڈروں سے جڑی اہم دستاویزات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال سے ٹینڈر کے عمل پر روک لگنے سے پہلے ہی ان چند کمپنیوں کے درمیان ایک منظم گٹھ جوڑ سرگرم تھا۔ انہوں نے جگدیش گپتا اور منیش گپتا کے نیٹ ورک پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپس میں جڑی کمپنیاں مختلف ناموں سے ٹینڈر لے رہی ہیں جبکہ دیگر اہل ٹھیکیداروں اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے ہیں۔ راہل راج نے دعویٰ کیا کہ اس گٹھ جوڑ کے تانے بانے گجراتی کالونی اور اریرا کالونی میں واقع دفاتر سے جڑے ہوئے ہیں جہاں مبینہ طور پر ٹینڈر کی سودے بازی ہوتی ہے۔ کانگریس نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ 2023-24 کے تمام ٹینڈروں کی آزادانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے، جاری کردہ دستاویزات اور مشکوک مقامات کی فرانزک جانچ کر کے منی ٹریل کو بے نقاب کیا جائے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس پریس کانفرنس میں جتیندر مشرا، اپراجیتا پانڈے، سنتوش پریہار، امت تاوڑے، وویک ترپاٹھی، پروین دھولپورے اور شہریار خان بھی موجود تھے۔