بھوپال، 26 فروری:مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست میں بڑھتے ہوئے منشیات، خاص طور پر ایم ڈی اور ایم ڈی ایم اے (سنتھیٹک ڈرگز) کے نیٹ ورک پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منڈسور میں ایک کرائے کے مکان سے 1886 کلو ایم ڈی ڈرگز بنانے والا کیمیکل برآمد ہونا انتہائی سنگین اور خوفناک معاملہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاست میں نوجوانوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سنتھیٹک ڈرگز کی پیداوار اور سپلائی کا نیٹ ورک بہت گہرائی تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب تک جہاں جہاں کارروائیاں ہوئی ہیں اور جو ملزمان پکڑے گئے ہیں، ان کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔
جیتو پٹواری نے کہا کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ ریاست کے مختلف حصوں میں ایسے کئی معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ منڈسور میں 1886 کلو کیمیکل کی برآمدگی، اندور میں 34.6 گرام ایم ڈی ڈرگز کی گرفتاری، بھوپال کے مختلف تھانہ علاقوں میں ایم ڈی کی چھوٹی بڑی کھیپیں پکڑے جانا جن کا تعلق کالج کے طلباء سے بتایا گیا، اور اجین، نیمچ، گوالیار اور چمبل کے علاقوں میں بھی بین ریاستی گروہوں کے درمیان منشیات کی سپلائی کے انکشافات اس بات کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں منشیات مافیا بے خوف ہیں اور انہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو اتنی بڑی مقدار میں کیمیکل اور ڈرگز کی کھیپیں ریاست میں سرگرم نہ ہوتیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی، مقررہ وقت میں اور غیر جانبدارانہ تفتیش کرائی جائے، بڑے سرغنوں کو فوری گرفتار کر کے ان کے نام منظر عام پر لائے جائیں، ریاستی سطح پر ایک خصوصی اینٹی سنتھیٹک ڈرگز ٹاسک فورس قائم کی جائے اور اسکول و کالج کی سطح پر بیداری مہم چلانے کے ساتھ ساتھ نشہ مکتی اور بحالی کی پالیسی نافذ کی جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ کانگریس نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دے گی اور اگر حکومت نے ٹھوس کارروائی نہیں کی تو وہ ریاست گیر عوامی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔









