بھوپال، 23 فروری: بڑے تالاب کو تجاوزات اور آلودگی سے پاک کرنے کے مقصد سے رکن پارلیمنٹ آلوک شرما نے پیر کو کلکٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی، جس میں کلکٹر کوشلیندر سنگھ، اے ڈی ایم انکر مشرام، میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر تنمے وششٹھ شرما، تمام ایس ڈی ایمز سمیت دیگر عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ رکن پارلیمنٹ نے بڑے تالاب کا ماسٹر پلان نئے سرے سے تیار کرنے کی ہدایت دی۔ جب کلکٹر نے ایس ڈی ایمز سے تالاب کے آس پاس موجود تجاوزات کے بارے میں دریافت کیا تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔ آلوک شرما نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑے تالاب کا کل رقبہ 31 مربع کلومیٹر ہے، لیکن تجاوزات اور خشک سالی کے سبب یہ علاقہ اب صرف 9-8 کلومیٹر تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے افسران سے گندے نالوں کے پانی کو روکنے، ایس ٹی پی کی تعمیر، این جی ٹی کے احکامات پر عمل درآمد اور تالاب کے کنارے غیر قانونی فارم ہاؤسز کے حوالے سے سخت سوالات کیے۔ اس پر کلکٹر کوشلیندر سنگھ نے چاروں ایس ڈی ایمز کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے تالاب کے کنارے سے تمام بڑی تجاوزات فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی اور واضح کیا کہ اب ہر ہفتے اس معاملے پر جائزہ میٹنگ منعقد کی جائے گی۔
میٹنگ کے دوران رکن پارلیمنٹ نے بھدبھدا ڈیم کے قریب پریم پورہ سے باقی ماندہ 26 جھگیوں کو تاحال نہ ہٹائے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج پورا بھوپال وقف بورڈ کی جاگیر بن گیا ہے۔ انہوں نے میٹرو ٹرین، اسمارٹ روڈ اور حمیدیہ روڈ بس اسٹینڈ کے پروجیکٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ترقیاتی کام میں وقف کی زمین کا دعویٰ سامنے آ جاتا ہے۔ آلوک شرما نے مطالبہ کیا کہ تالاب کی گہرائی اور رقبے سے متعلق سیپٹ، کے پی ایم جی اور کمار ایسوسی ایٹس کی تمام رپورٹس کو عوامی کیا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں انتباہ دیا کہ اب بھوپال میں کسی کو بھی وقف بورڈ، عنایت ہبے یا ’’لینڈ جہاد‘‘ کے نام پر غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔









