بھوپال، 23 فروری:مدھیہ پردیش اسمبلی اجلاس کے 6ویں دن ہندوستان- امریکہ ٹریڈ ڈیل سے کسانوں کو ہونے والے نقصان اور مرکز و ریاستی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار کی قیادت میں کانگریس کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی احاطے میں زبردست علامتی مظاہرہ کیا۔ کانگریس کے اراکین اسمبلی گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے جمع ہوئے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مکھوٹے پہن کر کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ اس مظاہرے کے ذریعے کانگریس کے اراکین اسمبلی نے واضح پیغام دیا کہ کسانوں کے مفادات سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے کہا کہ یہ مظاہرہ محض ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ ملک کے کسانوں کے حقوق، وقار اور مستقبل کے تحفظ کے لیے اٹھائی گئی ایک مضبوط آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان-امریکہ ٹریڈ ڈیل ہمارے کسانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ اگر سستا غیر ملکی سویابین، مکئی اور کپاس ہندوستانی بازار میں داخل ہوتا ہے، تو اس کا سیدھا اور سنگین اثر ہمارے محنتی کسانوں، زرعی منڈیوں اور دیہی معیشت پر پڑے گا۔ اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کی پالیسیاں مسلسل کسان مخالف رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سڑک سے لے کر ایوان تک جدوجہد کرتی رہے گی اور ان داتاؤں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جناب سنگھار نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی بین الاقوامی تجارتی معاہدے سے قبل ملک کے کسانوں کے مفادات کا جامع تحفظ یقینی بنایا جائے اور زرعی شعبے کو نقصان پہنچانے والی شقوں پر نظر ثانی کی جائے۔