بھوپال، 23 فروری: آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی کے سرپرست شمس الحسن کی قیادت میں ایک وفد نے بھوپال میں انسانی حقوق کمیشن کو میمورنڈم سونپ کر مدھیہ پردیش میں مبینہ پولیس حراست میں ہونے والی اموات پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وفد نے الزام لگایا کہ غیر جانبدارانہ تفتیش کے بجائے معاملات کو دبانے کی کوشش سے اقلیتی برادری میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ میمورنڈم میں خاص طور پر مندسور کے وحید، اندور کے سلمان لالہ، بھوپال کے آزاد خان اور چھترپور کے شہزاد خان کی موت کا ذکر کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی اور عدالتی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شمس الحسن نے کہا کہ عام شہریوں کے برعکس پولیس پر الزام ہونے کی صورت میں تفتیش میں تاخیر کی جاتی ہے۔ عارف خان، محمد دانش خان، تنویر قریشی، اعظم حفیظ خان، شعیب خان، شیخ اسماعیل خان اور زاہد خان سمیت دیگر عہدیداروں کی موجودگی میں وارننگ دی گئی کہ اگر وقت پر غیر جانبدارانہ تفتیش اور سخت کارروائی نہ ہوئی تو ریاست گیر سطح پر جمہوری احتجاج کیا جائے گا۔









