نئی دہلی، 8 فروری (پریس ریلیز) سولیٹیر لٹریچر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین میں منعقد ہونے والی پروقار علمی و ادبی تقریب “شمعِ فروزاں” اپنی تمام تر فکری، تہذیبی اور ادبی رعنائیوں کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔ اس محفل میں جہاں اردو ادب کی عظیم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، وہیں عہدِ حاضر کی ممتاز علمی و ادبی ہستیوں کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا۔
تقریب کے پہلے سیشن میں برصغیر کی پہلی مسلم خاتون معلمہ فاطمہ شیخ اور معروف صوفی شاعر سراج اورنگ آبادی کی حیات و خدمات پر مفصل گفتگو ہوئی۔ مقررین نے فاطمہ شیخ کی تعلیمی جدوجہد کو عصرِ حاضر کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور سراج اورنگ آبادی کے کلام میں موجود صوفیانہ رنگ و آہنگ کو اردو شاعری کا بیش قیمت سرمایہ بتایا۔
اعزازات کی تقسیم اور صدارتی کلمات
اس پروقار تقریب کی صدارت پروفیسر خالد محمود صاحب نے کی، جبکہ پدم شری پروفیسر اختر الواسع مہمانِ خصوصی تھے۔ دیگر معزز مہمانوں میں پروفیسر خواجہ شاہد، پروفیسر خورشید احمد انصاری اور محترم فاروق ارگلی صاحب شامل تھے، جن کا شال اور مومنٹوز کے ساتھ پرتپاک استقبال کیا گیا۔افتتاحی کلمات میں سولیٹیر لٹریچر فاؤنڈیشن کی روحِ رواں پروین شغف نے تنظیم کے چھٹے یومِ تاسیس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کی ادبی، فکری اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالی۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے اس سال کے خصوصی اعزازات:
پروفیسر تسنیم فاطمہ کو شعبۂ بایو سائنس (حیاتیات) میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میںاور جناب منیر ہمدم کو ان کی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے صلے میں’’سراج اورنگ آبادی اور فاطمہ شیخ ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔صدرِ محفل پروفیسر خالد محمود نے اپنے صدارتی خطاب میں سولیٹیر لٹریچر فاؤنڈیشن کی مسلسل اور بامقصد کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ محض مشاعرے اور نشستیں نہیں، بلکہ ایسی فکری و تحقیقی تقریبات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے پروین شغف کی کوششوں کو نئی نسل کو اپنی تہذیبی روایت سے جوڑے رکھنے میں مؤثر قرار دیا۔مہمانِ خصوصی پدم شری پروفیسر اختر الواسع اور پروفیسر خواجہ شاہد نے ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کی اور اردو ادب کے فروغ میں فاؤنڈیشن کے عزم و استقلال کی ستائش کرتے ہوئے ان شخصیات کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر خورشید احمد انصاری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سراج اورنگ آبادی کی شاعری اور ان کے دیوان “بوستان” کا حوالہ دیا، جبکہ فاطمہ شیخ کی ناقابلِ فراموش خدمات کو یاد کرتے ہوئے کیفی اعظمی کی نظم “عورت” کے اشعار:
’’قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہے نہیں‘‘سنا کر سامعین کو فکر و احساس کے ایک نئے زاویے سے روشناس کرایا۔
محفلِ مشاعرہ: شاعری کا دلکش رنگ
پروگرام کا دوسرا حصہ ایک پُراثر محفلِ مشاعرہ پر مشتمل تھا، جس کی نظامت عرفان اعظمی نے اپنے مخصوص دلنشین اور رواں انداز میں انجام دی۔ شعرائے کرام کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں شال اور مومنٹوز پیش کیے گئے۔مشاعرے میں سیف سحری، متین امروہی، اعجاز انصاری، نینہ سحر، ڈاکٹر وسیم راشد، رؤف رامش، شاہد انور، اقبال ادیب، اسلم خلیل قریشی، سرور حبیب، شارق کاشی پوری، امتیاز قریشی، عباس زیدی، خالد اخلاق، قمر انجم قمر، پروین شغف اور دیگر نوجوان شعراء نے اپنے کلام سے محفل کو یادگار بنا دیا۔تقریب کے اختتام پر سولیٹیر لٹریچر فاؤنڈیشن کی جانب سے عرفان اعظمی نے تمام شعراء، معزز مہمانوں اور اہلِ ذوق کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی شرکت سے اس علمی و تہذیبی شام کو کامیاب بنایا۔ آخر میں پرتکلف اور لذیذ طعام کے ساتھ اس یادگار محفل کا اختتام ہوا۔