نئی دہلی10فروری: بچوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں کچھ دنوں سے بڑھ گئی ہیں۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے اپنی فکر مندی ظاہر کی ہے اور مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ حقائق کا پتہ لگائے۔ مرکز سے یہ جانکاری حاصل کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ بچوں کے لاپتہ ہونے کے پیچھے کوئی ملک گیر نیٹورک تو شامل نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’آپ پتہ لگائیں، کیا پورے ملک میں ایسا کوئی نیٹورک ہے یا پھر کسی ریاست میں ہی ریاسطی سطح پر ایسا چل رہا ہے؟‘‘ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں بچوں کے غائب ہونے کی خبریں کافی زیادہ دیکھی گئی تھیں۔ جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اُجول بھوئیاں نے اس معاملہ میں کہا کہ یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ لاپتہ بچوں کے پیچھے ایک ہی پیٹرن ہے یا پھر ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایسے واقعات کا سبھی ریاستوں سے تفصیل حاصل کرے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔ دوسری طرف لکھنؤ ہائی کورٹ میں ایک اہم سماعت ہوئی، جس میں یہ بات سامنے رکھی گئی کہ اتر پردیش میں گزشتہ 2 سالوں میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ لاپتہ ہوئے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے اس بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے چنہٹ باشندہ وکرما پرساد کا بیٹا جولائی 2024 میں لاپتہ ہو گیا تھا۔