نئی دہلی10فروری: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو ہندوستان- امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت پر قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اس معاہدے کو ’پی آر میں لپٹا ہوا دھوکہ‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یہ سمجھوتہ ہندوستان کی تزویراتی خودمختاری اور معاشی مفادات کا تحفظ کرتا بھی ہے یا نہیں! کھڑگے نے کہا کہ 6 فروری کو جاری مشترکہ بیان میں روسی تیل کی خریداری کا کوئی ذکر نہیں تھا، حالانکہ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بارے میں اشارے کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق 9 فروری کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری حقائق نامہ میں واضح طور پر درج ہے کہ اضافی 25 فیصد امریکی محصول ہٹانے کے لیے ہندوستان کو روس سے تیل کی خرید بند کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ کھڑگے نے اسے ہندوستان کی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آخر اس شرط کو کیوں قبول کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل بھی ایک انتظامی حکم کے ذریعے ہندوستان کو براہ راست یا بالواسطہ تیل درآمدات کے معاملے میں امریکی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ زرعی شعبے کے حوالے سے کھڑگے نے الزام لگایا کہ پہلی بار کسی حکومت نے ہندوستانی زراعت کو غیر ملکی مصنوعات کے لیے مکمل طور پر کھول دیا ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ بیان میں ’اضافی مصنوعات‘ کی جو اصطلاح استعمال کی گئی تھی، اب اس کی وضاحت سامنے آ رہی ہے اور دالوں کو خاموشی سے اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ سرخ جوار کی درآمد کا جو مقصد جانوروں کے چارے سے متعلق بتایا گیا تھا، وہ تازہ حقائق نامہ میں غائب ہے۔









