کولکاتا8فروری: مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق دعوے اور اعتراضات پر سماعت کی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے، لیکن کئی علاقوں میں عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال اب بھی واضح نہیں ہو پائی ہے۔ ریاست کے 3 انتخابی اضلاع میں تقریباً 15 اسمبلی سیٹوں پر سماعت زیر التوا ہے، جس کی وجہ سے ڈیڈ لائن بڑھانے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) مغربی بنگال منوج کمار اگروال نے سماعت کے عمل کے لیے 7 دن کا اضافی وقت مانگا ہے۔ حالانکہ کولکاتہ میں واقع سی ای او دفتر کو اب تک نئی دہلی میں الیکشن کمیشن (ای سی آئی) ہیڈکوارٹر سے اس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
سی ای او دفتر سے منسلک ذرائع کے مطابق کنفیوژن کی صورتحال 2 وجوہات سے پیدا ہوئی ہے۔ پہلی یہ کہ اگر ڈیڈ لائن بڑھائی جاتی ہے تو نئی آخری تاریخ کیا ہوگی؟ دوسری یہ کہ اس توسیع کا اطلاق صرف انہی 15 اسمبلی حلقوں تک محدود رہے گی، جہاں سماعت مکمل نہیں ہو پائی ہے یا پھر پوری ریاست کے لیے وقت کی حد بڑھائی جائے گی؟
ذرائع نے بتایا کہ اگر الیکشن کمیشن پوری ریاست کے لیے ڈیڈ لائن میں اضافے کا فیصلہ کرتا ہے تو 14 فروری کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت میں بھی اسی تناسب سے تاخیر ہوگی۔ جن 15 اسمبلی حلقوں میں سماعت اب تک نہیں ہوئی ہے وہ بنیادی طور پر 3 انتخابی اضلاع میں آتے ہیں۔ ان میں اقلیتی اکثریتی مالدہ، ساحلی اور سرحدی جنوبی 24 پرگنہ اور شمالی کولکاتہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اس درمیان ایک بڑی اطلاع سامنے آئی ہے کہ 4 لاکھ سے زائد ووٹرس کی شناخت ایسے لوگوں کے طور پر کی گئی ہے، جن کا نام حتمی ووٹر لسٹ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ ووٹرس ہیں جو دعووں اور اعتراضات کی سماعت کے دوران بار بار نوٹس بھیجے جانے کے بعد موجود نہیں ہوئے۔ ان 4 لاکھ ممکنہ طور پر ہٹائے جانے والے ووٹرس میں تقریباً 50 ہزار ’اَن میپڈ‘ ہیں اور تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ’لوجیکل ڈسکریپینسی‘ والے معاملے میں۔ ’اَن میپڈ‘ ووٹرس وہ ہیں جو 2002 کی ووٹر لسٹ سے اپنا تعلق ثابت نہیں کر پائے، نہ تو ذاتی طور پر اور نہ ہی نسب کے ذریعہ۔ جبکہ ’لوجیکل ڈسکریپینسی‘ والے معاملوں میں شجرہ نسب کی میپنگ کے دوران خاندانی تفصیلات میں غیر معمولی خرابیاں یا تضادات پائے گئے۔









