نئی دہلی، 8 فروری (یو این آئی)دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے اتوار کے روز قومی دارالحکومت میں اسٹیٹس مین ونٹیج اینڈ کلاسک کار ریلی کے 59ویں ایڈیشن کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
یہ ریلی دہلی کے قلب اسٹیٹس مین ہاؤس، بارکھمبا روڈ سے شروع ہوئی، جہاں قدیم اور کلاسک گاڑیوں کے شاندار قافلے نے سڑکوں پر جلوہ بکھیرتے ہوئے شہریوں اور آٹو موبائل شائقین کو مسحور کر دیا۔ ماضی کی پرشکوہ اور چمکتی دمکتی گاڑیاں سڑکوں پر اپنی شان و شوکت بکھیرتی نظر آئیں۔
اسٹیٹس مین ونٹیج اینڈ کلاسک کار ریلی ہندوستان اور برصغیر کی قدیم ترین مسلسل منعقد ہونے والی تقریبات میں سے ایک ہے۔ اس کا آغاز 1964 میں دہلی میں ہوا جبکہ 1968 میں کولکاتا کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ یہ ریلی ہر سال دہلی اور کولکاتا دونوں شہروں میں منعقد کی جاتی ہے۔
59ویں ایڈیشن میں 100 سے زائد ونٹیج اور کلاسک گاڑیاں شریک ہو رہی ہیں، جن میں 1936 رولز رائس، 1926 اسٹوڈی بیکر ارسکین، 1906 رینالٹ، 1935 رائٹ کرافٹ، 1938 مرسڈیز، 1937 وولزلی، 1932 بیبی آسٹن، 1938 ایڈلر، 1937 ڈاج، 1929 آسٹن 7 ٹورر، 1919 سٹروئن ٹارپیڈو، 1913 اسٹوئر اور 1912 اسٹینڈرڈ کوونٹری سمیت کئی نایاب گاڑیاں شامل ہیں۔
تقریب کی نمایاں جھلکیوں میں گاڑیوں کی نمائش، شہر کے مختلف حصوں سے گزرتی ریلی، گاڑیوں کی اصلیت اور کارکردگی کا جائزہ، شاندار پریڈ اور لائیو میوزک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رولز رائس، بینٹلی، نیشنل ریل میوزیم کی ملکیت 1914 جان مورس فائر انجن، چھوٹی ونٹیج گاڑیاں اور بیرونِ شہر سے آنے والی گاڑیاں بھی اس سال کی خاص کشش ہیں۔اس سال کی خاص بات ریلوے میوزیم کی ملکیت 1914 کا ‘جان مورس فائر انجن اور مختلف کلاسک برانڈز جیسے مرسڈیز، ڈوج اور بینٹلے کی موجودگی ہے۔
ریلی شہر کا چکر لگانے کے بعد دوپہر 1 بجے میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم (انڈیا گیٹ کے قریب) پہنچے گی، جبکہ انعامات کی تقسیم کی تقریب سہ پہر 3:30 بجے اسی مقام پر منعقد ہوگی۔
گاڑیوں کے مالکان ہر سال اس ریلی کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ یہ انہیں جدید سڑکوں پر اپنے ماضی کی شاندار اور محفوظ شدہ گاڑیوں کو چلانے کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ ریلی ونٹیج، کلاسک، پوسٹ وار اور دیگر زمروں میں تقسیم شدہ گاڑیوں کے ذریعے دارالحکومت کے عوام کو آٹو موبائل تاریخ کے ایک دلکش دور کی جھلک دکھاتی ہے۔ یہ ریلی دہلی کے شہریوں کو انجینئرنگ کے ان شاہکاروں کو قریب سے دیکھنے اور ماضی کے سحر انگیز دور میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ گاڑیوں کے مالکان کے لیے بھی یہ ایک یادگار دن ہوتا ہے جب وہ اپنی دہائیوں پرانی گاڑیوں کو جدید سڑکوں پر دوڑاتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔









