نئی دہلی 6فروری: ہند۔امریکہ تجارتی سمجھوتے پر اپوزیشن کے الزامات کے بیچ وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے صاف کیا کہ معاہدہ ملک کے زرعی مفادات بالخصوص زراعت اور ڈیری کے شعبوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پرائم منسٹر نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں یہ معاہدہ سفارت کاری، ترقی اور وقار کا ایک نیا پیمانہ قائم کرتا ہے۔ پرائم منسٹر مودی نے شروع میں ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ کسانوں کے مفادات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ ملک کی 50فیصدسے زیادہ افرادی قوت کو ملازمت دینے والے شعبے میں تذبذب اورکشمکش سے بچنے کے لیے بے لاگ بات چیت لازمی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ کاشت کارہماری اولین ترجیح ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود ہی قوم کی فلاح ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے بارے میں ہندوستان کا موقف مضبوط ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہلی میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، شیو راج چوہان نے معاہدے سے کھلے برآمدات کے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان پہلے ہی امریکہ سمیت کئی ممالک کو چاول برآمد کرتا ہے، اور حال ہی میں تقریباً 63,000 کروڑ روپے کی برآمدات درج کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی میں کمی سے ہندوستان کے چاول، مسالا اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کو راست طور پرفائدہ پہنچے گا۔ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے سے کپاس کے لاکھوں کاشت کاروں کو فائدہ ہوگا۔ وزیرزراعت نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے غلط معلومات پھیلانے کے باوجود، یہ معاہدہ صرف اور صرف ہندوستانی کسانوں کے مفاد میں بنایا گیا ہے اور اس سے برآمدات کے نئے مواقع کھلتے ہیں۔









