نئی دہلی 5فروری : لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بدھ کے روز ایوان میں نہ آنے کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ انہیں پیشگی اطلاعات ملی تھیں کہ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ لوک سبھا کے اندر کوئی ’’غیر معمولی اور ناقابلِ قبول‘‘ کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اوم برلا نے کہا کہ جب وزیر اعظم کو صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر جواب دینا تھا، تو انہیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ کانگریس کے کئی ارکان وزیر اعظم کی کرسی کے قریب کوئی نامناسب واقعہ انجام دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آ جاتا تو یہ ملک کی جمہوری روایات کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر انہوں نے وزیر اعظم سے گزارش کی کہ وہ اس دن ایوان میں تشریف نہ لائیں۔ اوم برلا نے کہا :’’ اگر وزیر اعظم کی کرسی کے قریب کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا تو یہ جمہوریت کی روح کو مجروح کر دیتا۔ اسی لیے میں نے وزیر اعظم کو ایوان میں آنے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ بدھ کے روز جب لوک سبھا کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث اسپیکر نے ایوان کو جمعرات (5 فروری) تک ملتوی کر دیا۔









