نئی دہلی 30جنوری: کانگریس کے ذریعہ ملک گیر سطح پر جاری ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ زور و شور سے جاری ہے۔ آج ملک کی راجدھانی دہلی کے ساتھ ساتھ پنجاب، ہماچل پردیش، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں کانگریس لیڈران و کارکنان کے ساتھ ساتھ عوام نے سڑکوں پر نکل کر مودی حکومت کے نئے قانون ’جی رام جی‘ کے خلاف آواز اٹھائی۔ دہلی کی سڑکوں پر کانگریس کے سرکردہ لیڈران ’125 دن کا جھوٹا شور، مودی حکومت منریگا چور‘ اور ’منریگا چور، گدی چھوڑ‘ جیسے نعرے لکھے پلے کارڈس ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے دہلی میں منریگا کو بچانے کے لیے نکالی گئی ریلی کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت نے بلڈوزر چلا کر منریگا ایکٹ کو رَد کر دیا۔ منریگا تاریخی اور انقلابی قانون تھا جو ستمبر 2025 کو اتفاق رائے سے پاس ہوا تھا۔ اس ایکٹ کو بنانے میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا اہم کردار تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’منریگا قانون آئینی حق تھا، لوگوں کے پاس روزگار کی قانونی گارنٹی تھی۔ اس قانون سے پنچایتیں مضبوط ہوئیں۔ ہر کنبہ کو پہلی بار ڈی بی ٹی کے ذریعہ سے پیسہ پہنچایا گیا۔ لیکن یہ قانون رد کر دیا گیا، کیونکہ نریندر مودی نہیں چاہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی جی سے جڑا ہوا یہ قانون زیادہ وقت تک چلے۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ان کا حق ملے۔‘‘









