لکھنو 30جنوری: الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش پولیس کے رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو ’’پولیس اسٹیٹ‘‘ میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ پولیس افسران، خصوصاً نوجوان افسران، ریاست بھر میں ججوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے حق میں مخصوص احکامات حاصل کر سکیں۔ یہ ریمارکس جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال نے ایک سماعت کے دوران دیے، جہاں عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی برقرار رکھنا ضروری ہے اور پولیس کو عدالتی نظام پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :’’دیکھیے، اس کو پولیس اسٹیٹ نہیں بننے دینا۔‘‘
یہ سماعت ورچوئل انداز میں ہوئی جس میں ڈی جی پی راجیو کرشنا اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) سنجے پرساد بھی موجود تھے۔ ان دونوں حکام سے عدالت نے وضاحت طلب کی کہ پولیس کی جانب سے ملزمان کو ٹانگوں میں گولی مارنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ریاست کے تقریباً ہر ضلع میں قانون پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہو رہا۔ جسٹس دیشوال نے انتہائی سخت الفاظ میں کہا :’’مجھے ایک بھی ایسا کیس نہیں ملا جہاں قانون یا سپریم کورٹ کی ہدایات پر صحیح طور پر عمل کیا گیا ہو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع پولیس سربراہان اور عدالتی افسران کے درمیان اختلافات معمول بن چکے ہیں، خصوصاً اس وقت جب جج پولیس کی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
عدالت نے بتایا کہ کئی اضلاع میں پولیس سپرنٹنڈنٹس عدالتی افسران پر مخصوص احکامات دینے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ ایک مثال میں عدالت نے انکشاف کیا کہ ایک چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (CJM) کو صرف اس کشمکش کو روکنے کے لیے تبادلے کا سامنا کرنا پڑا۔ جسٹس دیشوال نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کسی ایک ضلع تک محدود نہیں۔ ضلع ججوں سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق زیادہ تر اضلاع میں پولیس افسران، حتیٰ کہ آئی پی ایس افسران بھی، عدالتی احکامات اپنے حق میں نہ آنے پر دباؤ ڈالنے لگتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں سے ملنے والی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض مواقع پر سینئر پولیس افسران عدالت کے کمرۂ سماعت میں داخل ہو کر عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عدالت نے زور دیا کہ پولیس اور عدلیہ دونوں ریاستی نظام کے ستون ہیں، اور دونوں کے درمیان باہمی احترام لازمی ہے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر پولیس خود کو ججوں سے بالا سمجھنے لگے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہوگا۔









