نئی دہلی27جنوری: ہفتے میں پانچ دن کام کے مطالبے کو لے کر منگل کے روز ملک بھر میں عوامی شعبے کے بینکوں کے ملازمین ہڑتال پر رہے، جس کے باعث روزمرہ بینکنگ خدمات متاثر ہوئیں۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کی اپیل پر ہونے والی اس ملک گیر ہڑتال میں مختلف ریاستوں کے بینک ملازمین نے شرکت کی۔ یہ فورم 9 بینک یونینز پر مشتمل ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جو پبلک سیکٹر کے بینکوں میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہڑتال کا فیصلہ 23 جنوری کو چیف لیبر کمشنر کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کسی حل پر نہ پہنچنے کے بعد کیا گیا۔ ہڑتال کے سبب نقد رقم جمع کرانے اور نکالنے، چیک کلیئرنس اور دیگر بینکنگ خدمات متاثر رہیں۔ اس دوران اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک اور بینک آف بڑودہ جیسے بڑے سرکاری بینکوں کی متعدد شاخوں میں کام کاج سست یا مکمل طور پر ٹھپ رہا۔
نجی شعبے کے بینکوں میں تاہم معمول کا کام جاری رہا، کیونکہ ان کے ملازمین اس ہڑتال میں شامل نہیں تھے۔ اتر پردیش، گجرات، بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں بینک ملازمین نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے اپنے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کی۔ اتر پردیش کے لکھنؤ میں انڈین بینک کی ملازمہ انشیکا سنگھ ویسن نے کہا کہ گزشتہ دو طرفہ معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ بینکوں میں پیر سے جمعہ تک کام ہوگا اور ہفتہ و اتوار کی چھٹی رہے گی، لیکن اس فیصلے پر اب تک عمل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق دیگر نکات مان لیے گئے، مگر پانچ دن کام کے نظام کو نافذ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیگر سرکاری اور مالیاتی اداروں کو دیکھا جائے تو وہاں ہفتہ اور اتوار کی تعطیل پہلے ہی نافذ ہے۔ چاہے وہ لائف انشورنس کارپوریشن ہو، ریزرو بینک ہو یا ریاستی و مرکزی حکومت کے دفاتر، سبھی جگہ دو دن کی چھٹی کا نظام موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکنگ شعبے میں مسلسل بڑھتے کام کے دباؤ کے باعث ملازمین کی ذاتی اور خاندانی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔