بھوپال:27؍جنوری:​(پریس ریلیز)بھوپال کی علمی و ادبی بستی میں گزشتہ شب ایک ایسی نورانی محفل سجی جہاں علم کی روشنی اور طالبات کے جوش و جذبے نے حاضرین کے دل جیت لیے۔ شاہجہان آباد مرغی بازار میں واقع مدرسہ فاطمۃ الزہراء للبنات کاسالانہ تعلیمی و انعامی جلسہ” محض ایک تقریب نہیں، بلکہ اس مخلصانہ محنت کا ثمر تھا جو 2014 سے اس ادارے کی پہچان بنی ہوئی ہے۔​اس مبارک ادارے کی بنیاد حضرت مولانا پیر سعید میاں صاحب مجددی (رحمہ اللہ) نے رکھی تھی، اور خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ آج یہ ادارہ قاضی ریاست بھوپال مولانا قاضی سید مشتاق علی ندوی مدنی (دامت برکاتہم) کی زیرِ سرپرستی علمی و تربیتی منازل طے کر رہا ہے۔​ادارے کے نظامِ تعلیم کو منظم بنانے میں مولانا نعمت اللہ ندوی (ناظم تعلیمات) کا کلیدی کردار ہے۔ جلسے کی علمی رونق اس وقت دوبالا ہو گئی جب شہر کی ممتاز علمی شخصیات نے اپنی شرکت سے تقریب کو وقار بخشا۔ مولانا شرافت ندوی (دامت برکاتہم)، حضرت مولانا مفتی رئیس قاسمی (دامت برکاتہم)، مولانا ڈاکٹر شمس الدین ندوی اور مولانا نوشاد ندوی نے نہ صرف جلسے میں شرکت کی بلکہ اپنے بصیرت افروز اور تشجیعی کلمات سے طالبات اور حاضرین کو مستفید کیا۔​ادارے کے بانی و ناظم مولانا عبد الرحمن ندوی کی پیہم کوششوں نے اس ادارے کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ اس تعلیمی سفر میں مولانا کی اہلیہ محترمہ کی خدمات بھی نہایت گرانقدر ہیں، جو پردے کے پیچھے رہ کر طالبات کی اخلاقی تربیت اور مدرسہ کے نظم و ضبط میں ایک مضبوط ستون کی طرح ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔
​شہر کی ہردلعزیز شخصیت اور ایم ایل اے بھائی عارف مسعود، جن کا تعاون ہمیشہ سے اس ادارے کو حاصل رہا ہے، گزشتہ شب بھی جلسہ میں جلوہ افروز ہوئے۔ انہوں نے اپنی مخصوص تشجیعی گفتگو سے طالبات کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں انعامات سے نواز کر ان کی محنت کی پزیرائی کی۔ جلسہ کے آخر میں بچوں اور بچیوں کو ان کی بہترین تقاریر پر انعامات سے نوازا گیا، اور خاص طور پر تقریر کرنے والی بچیوں پر حاجی اکبر نے سینکڑوں روپیوں کی بارش کر دی اور ان کی بھرپور ہمت افزائی فرمائی۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو اجرِ عظیم سے نوازے اور ان کی اس نیکی کو قبول فرمائے، آمین۔​بحیثیت ناظمِ جلسہ، اسٹیج سے ان تمام قد آور شخصیات کی موجودگی اور 128 طالبات کی بہترین کارکردگی دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ یہ ادارہ ملی و سماجی اصلاح میں کتنا مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ معزز علماء کرام اور عوامی جمِ غفیر کی شرکت اس مدرسے کی مقبولیت کی گواہ ہے۔ وہیں​ کلماتِ تشکر مولانا عبد الرحمن ندوی نے اداکیا۔اس کے علاوہ نظامت کے فرائض بحسن وخوبی مولانا طاھر ندوی (امام و خطیب مسجد چڑی خانہ) نے نہایت خوش اسلوبی سے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔