بھوپال:23؍جنوری:وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش اسپیس ٹیک پالیسی-2026 ریاست کی سائنسی اور فلکیاتی وراثت کو مستقبل کے لیے تیار تکنیکی قیادت میں تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یہ پالیسی اختراع، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ اس سے مدھیہ پردیش بھارت کی نئی خلائی معیشت میں ایک مضبوط کردار ادا کرے گا۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت کا مقصد اسپیس، مصنوعی ذہانت اور ڈیپ ٹیک جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا، اعلیٰ مہارت والے روزگار پیدا کرنا اور مدھیہ پردیش کو ایک نمایاں اسپیس ٹیک مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ تاریخی طور پر ‘‘قدیم بھارت کا گرین وچ’’ کہلانے والے اْجین (ڈونگلا) کی فلکیاتی وراثت کو جدید سائنس اور اے آئی ٹیکنالوجی سے جوڑ کر ریاست کو خلائی تحقیق کے ایک نئے مرکز کے طور پر ترقی دی جائے گی۔
اسپیس ٹیک پالیسی-2026
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے حال ہی میں مدھیہ پردیش علاقائی اے آئی امپیکٹ کانفرنس-2026 کے دوران مدھیہ پردیش اسپیس ٹیک پالیسی-2026 کا افتتاح کیا تھا۔ یہ پالیسی ریاست کو خلائی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی شناخت دلانے کی سمت ایک اہم اقدام ہے۔ اسپیس ٹیک پالیسی-2026 ایک جامع اور اینڈ ٹو اینڈ تکنیکی فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس کے تحت خلائی ماحولیاتی نظام کے اپ اسٹریم، مڈ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم تمام مراحل کی ترقی کی جائے گی۔ اس پالیسی میں سیٹلائٹ اور لانچ وہیکل کی تیاری، پروپلشن سسٹمز، ایویونکس، جدید مواد، اسمبلی، انٹیگریشن اور ٹیسٹنگ، مشن آپریشن، گراؤنڈ اسٹیشن، اسپیس سیچویشنل اویئرنیس اور اے آئی پر مبنی سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کو شامل کیا گیا ہے۔
پالیسی میں انفراسٹرکچر اور تحقیق و ترقی کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے تحت اسپیس ٹیک مینوفیکچرنگ پارک، ماحولیاتی اور ای ایم آئی/ای ایم سی جانچ سہولیات، پروپلشن اور وائبریشن ٹیسٹنگ لیبارٹریاں، کلین رومز، سیٹلائٹ سیمولیشن، اے آئی ماڈلنگ اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس کے لیے اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اہل اسپیس گریڈ انفراسٹرکچر کے لیے 40 فیصد تک سرمایہ جاتی گرانٹ اور فوکس سیکٹرز کے لیے اضافی مراعات کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت ڈیزائن سے منسلک مراعات، پروٹو ٹائپ ترقی کے لیے گرانٹ، دانشورانہ املاک کی فیس کی واپسی میں مدد اور اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو فروغ دینے کے لیے منظم میچنگ فنڈ ماڈل شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی خلائی پالیسی اور اِن اسپیس اصلاحات کے مطابق نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔ پالیسی کی ایک خاص کامیابی اْجین میں فلکی طبیعیات اور خلائی سائنس کے لیے تحقیق و ترقی مرکز کا قیام ہے۔ اس مرکز کے ذریعے اْجین کی بھرپور فلکیاتی وراثت کو جدید سائنس اور اے آئی ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے گا۔پالیسی کے نفاذ کی ذمہ داری محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے پاس ہوگی، جس میں ایم پی ایس ای ڈی سی نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کرے گی۔ سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کو سنگل ونڈو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک مخصوص سہولت سیل بھی قائم کیا جائے گا۔ اسپیس ٹیک پالیسی کے ذریعے مدھیہ پردیش ملک کے نمایاں ٹئیر-2 اسپیس ٹیک مراکز میں شامل ہوگا۔









