نئی دہلی20جنوری: ’’جو ظلم ہم اتر پردیش میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے دیکھ رہے ہیں، کیا وہ کوئی مٹھ والا بابا کر سکتا ہے؟ سَنت مٹھ والے ہوتے ہیں، سَنت لٹھ والے نہیں ہوتے ہیں۔ یہ لٹھ والے ہمارے ہندو مذہب پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ انھیں معاف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا و پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور ترجمان پون کھیڑا نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے دیا۔ انھوں نے سوامی اویمکتیشورانند کو نوٹس بھیجے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے یہ بیان دیا، اور ساتھ ہی کہا کہ ’’ایک طرف آج بی جے پی کا نیا صدر بغیر الیکشن کے منتخب کیا جا رہا ہے، دوسری طرف سَنتوں کے آنسو گر رہے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے پریس کانفرنس کے دوران پریاگ راج ماگھ میلہ میں بدسلوکی کے بعد جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو نوٹس بھیجے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے حکومت کے ذریعہ بھیجے گئے اس نوٹس کو ہندو مذہب پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ ’’اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ نصف شب کو سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو نوٹس بھیجنا اور یہ کہنا کہ وہ انھیں شنکراچاریہ نہیں مانتی، تکبر کا عروج ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہندو سماج سمیت پورا ملک وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی خاموشی کو دیکھ رہا ہے۔ ہندو سماج اس حرکت کے لیے انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔‘‘ کانگریس ترجمان نے بتایا کہ ’مونی اماوسیا‘ پر پریاگ راج ماگھ میلہ میں شاہی اَسنان کے لیے جا رہے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند کی پالکی کو پولیس نے روک دیا تھا۔