بھوپال -15/ جنوری ( پریس ریلیز) آئ او ایس کے بانی اور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم کے ملی ، سماجی ، سیاسی اور فکری میدانوں میں ان کی ناقابل فراموش خدمات کو لیکر بھوپال کے سینئر صحافی ایم ایس حسن کے غریب خانے پر مولانا محمّد مسیح عالم جامعی کی صدارت میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا – اپنے صدارتی خطاب میں محمّد مسیح عالم نے ڈاکٹر منظور عالم کی سماجی ، فکری اور سیاسی بصیرت پر روشنی ڈالتے ہے کہا کہ انہونے اپنی ذاتی کامیابی کے بجاے سماجی ذمے داری اور علمی جدّوجہد کے لئے وقف کر دیا تھا – اس موقع پر مفتی محمّد عرفان عالم قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر کے نامور دانشوروں میں اپنا نام پیدا کیا -انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے ہندوستان ہی نہیں بیرون ملک بھی اپنی پہچان بنائی – یہی وجہ تھی کی سعودی عرب حکومت نے انکی صلاحیتوں کا لوہا مانتے ہوئے ان کو معاشیات کا مشیر مقرّر کیا اور لمبے عرصے تک انکی خدمات لی -اتنا ہی نہیں ڈاکٹر منظور عالم نے آئی او ایس کو قائم کر کے قوم کو قیمتی سرمایا دیا ہے -ڈاکٹر منظور عالم ملکی سیاست پر بھی اپنی مضبوط گرفت رکھتے تھے اور کئی سنجیدہ موضوع پر سرکار سے سیدھی بات بھی کرتے تھے- اس موقعے پر موجود علماء ، مفتیان اور ائمّہ حضرات نے بھی ڈاکٹر محمّد منظور عالم کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کیا اور انکے حیات و خدمات پر تفصیلی گفتگو کی – تعزیتی نشست میں سینئر صحافی ایم ایس حسن نے کہا کہ ڈاکٹر محمّد منظور عالم کے انتقال کے ساتھ ہی ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے- ایم ایس حسن نے کہا آل انڈیا ملی کونسل کے قومی جنرل سیکرٹری، انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے بانی اور نامور دانشور منظور عالم کے انتقال پر علمی و عوامی حلقوں میں رنج و غم کی لہر ہے ۔ سینئر صحافی نے کہا کہ 1986 میں آئی او ایس کا قیام ڈاکٹر عالم کے فکری وژن کا شاہکار ہے، جس نے ملت کو جذباتی سیاست کے بجائے دلیل اور شعور کی راہ دکھائی۔ انہوں نے ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ اتحاد اور جمہوری اقدار کی آبیاری کی۔ اس تعزیتی نشست میں ممتاز علماء کرام بشمول مولانا محمّد مسیح عالم جامعی، مفتی ڈاکٹر عرفان عالم قاسمی ، مفتی قاری احمد علی جامعی ،مفتی شیث عالم جامعی، مفتی شمس تبریز جامعی، قاری محمد جاوید اقبال ، قاری محمد صدرعالم ، مولانا نعمان صاحب ، قاری محمد نوشاد ، قاری عبدالقدوس، محمّد قمر عالم ، محمّد بدر عالم ودیگر علماءکرام وائمۂ مؤذنین صاحبان شامل تھے –