چنئی 7جنوری:تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ تمل ناڈو میں ہندوؤں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ اسٹالن نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ الزام نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کے شایانِ شان بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو ایک ایسا صوبہ ہے جہاں تمام مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور ریاستی حکومت سب کے مذہبی حقوق کے تحفظ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کو فروغ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمل ناڈو کی سرزمین پر نفرت، تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی ہر کوشش ناکام رہی ہے اور آئندہ بھی ایسی سوچ کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسٹالن نے زور دے کر کہا کہ ریاست میں کسی ایک مذہب یا طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات دراصل ایسے عناصر کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو معاشرے میں دنگا فساد اور تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر تمل ناڈو کے عوام نے ہمیشہ ایسی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں، ریاست میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ سردار جماعت دراوڑ منیترا کزگم نے بھی وزیر اعلیٰ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی سیکولر اقدار اور آئینی اصولوں پر مضبوطی سے قائم ہے۔
پارٹی کا کہنا تھا کہ تمل ناڈو کی سیاست نفرت نہیں بلکہ سماجی انصاف، مساوات اور باہمی احترام پر مبنی رہی ہے۔