اورنگ آباد/ممبئی31دسمبر: مہاراشٹر میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) اس وقت شدید داخلی بحران سے گذر رہی ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل کے خلاف کھل کر بغاوت سامنے آ گئی ہے۔ اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر) میونسپل کارپوریشن انتخابات اور ممبئی کے بلدیاتی سیاسی منظرنامے میں پارٹی کے اندرونی اختلافات نے سنگین صورت حال اختیار کر لی ہے۔ پارٹی کے ناراض لیڈران کا الزام ہے کہ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن انتخاب کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم میں شفافیت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ ریاستی صدر امتیاز جلیل پر براہ راست الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ٹکٹ ’قابلیت اور کارکردگی‘ کی بنیاد پر دینے کے بجائے مبینہ طور پر فروخت کیا گیا۔ الزام یہ بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے سینئر و سرگرم لیڈران کو نظرانداز کر کے اپنے قریبی اور وفادار افراد کو ٹکٹ سے نوازا ہے۔ اورنگ آباد میں پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق اسمبلی امیدوار ناصر صدیقی اور دیگر پارٹی کارکنان نے امتیاز جلیل پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے وفادار اور پرانے کارکنان کو نظر انداز کر کے مبینہ طور پر 12 سے 15 لاکھ روپئے میں ٹکٹ فروخت کئے ہیں۔ مشتعل کارکنان نے اورنگ آباد میں احتجاج کرتے ہوئے امتیاز جلیل کی تصاویر کو پھاڑا اور پیروں تلے روند کر نعرے بازی کی کہ ’’ہم اسدالدین اویسی کے ساتھ ہیں لیکن امتیاز جلیل کی قیادت منظور نہیں۔‘‘ ناصر صدیقی نے امتیاز جلیل کو مہاراشٹر کی صدارت کے عہدے سے برخاست کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پارٹی صدر امتیاز جلیل پر اسی نوعیت کے الزامات ممبئی میں بھی عائد کئے جا رہے ہیں۔ ممبئی ایم آئی ایم کے صدر فاروق شابدی نے عین الیکشن سے قبل اپنے عہدے سے استعفی دے کر پارٹی کی قیادت کو سخت پیغام دیا ہے۔ فاروق شابدی نے استعفی کی وجہ کو ذاتی نوعیت کا قرار دیا لیکن فاروق شابدی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی قیادت پر اعتماد ختم ہونے، تنظیمی فیصلوں میں یکطرفہ رویہ اختیار کرنے اور ممبئی اعظمی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم میں مبینہ طور پر بے ضابطگیوں کے سبب انہوں نے استعفی دیا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی صدر امتیاز جلیل نے مقامی قیادت کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے پیسوں کے عوض ٹکٹ فروخت کیے ہیں