ممبئی:31؍دسمبر :(پریس ریلیز)سلام شیخ: گزشتہ دنوں کرلا ممبئی میں اردو دوست ایوب قریشی نے اپنے رہائش گاہ پر مرزا غالب کے یومِ پیدائش پر بہترین شعری نشست کا انعقاد کیا۔ شعری نشست کے صدرات مشہور شاعر و ادیب شمیم طارق تھے۔ نظامت یوسف دیوان نے اپنے منفرد انداز میں بخوبی انجام دی۔ شعراء حضرات میں قیصر خالد(آئی پی ایس) افسر دکنی، ریکھا روشنی، شمیم ادا، اختر لالہ اورنگ آبادی، سیماب انور، مہمانِ خصوصی مالک و مدیر روزنامہ ہندُستان سرفراز آرزو، مہمانِ اعزازی شاہنواز تھانہ والا، سہیل احمد(ڈائریکٹر سینٹرل بینک آف انڈیا) تھے۔ تمام شعراء حضرات نے اپنے بہترین کلام کے ساتھ مرزا غالب کا کلام بھی سناتے ہوئے شعری محفل کا حق ادا کیا۔ ساتھ ہی صدرِ مشاعرہ اور ناظمِ مشاعرہ نے اپنا بہترین کلام سنایا۔ شمیم طارق نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ غالب، اقبال، امیر خسرو اور بھی دیگر پر آج بھی ہمارے ملک اور بیرونی ممالک میں محفلوں کا انعقاد ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ مگر محمود دررانی، ظفر گورکھپوری، قیصرالجعفری اور بھی دیگر شعراء کو پورے طور پر فراموش کردیا گیا ہے۔ ممبئی میں کالی داس رضا گپتا ظ۔ انصاری، قاضی اظہر مبارکپوری جیسے شعراء حضرات کو یا تو فراموش کردیا گیا ہے یا پھر محفلوں کا انعقاد نہیں ہورہا ہے۔ اچھا ہوتا ایوب قریشی اپنے فاونڈیشن کے زیرِ اہتمام کرلا اور ممبئی کے شعراء کو یاد کرتے یا ان کی یاد دلانے کی سبیل پیدا کریں۔ شمیم طارق نے درمیانِ خطاب غالب کے بعض اشعار کی تفہیم کرتے ہوئے کہا کہ میں غالب کو اردو فارسی کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر زبان کے بڑے شاعروں میں شمار کرتا ہوں۔ رسمِ شکریہ کے ساتھ میزبان ایوب قریشی نے مہمانان کا استقبال شال سے کیا اور شعراء حضرات کو شال اور مومینٹو دے کر ان کی پذیرائی کی۔ ساتھ پُرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا۔ تقریب میں ممبئی و مضافات کے علاوہ بھیونڈی، اورنگ آباد اور دیگر قرب و جوار کے متعلقین کی شرکت نے محفل کو یادگار رونق بخشی۔









