کولکاتا30دسمبر:مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب سے قبل سیاسی حملوں اور بیان بازی کا دور تیز ہوتا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ’’ریاست کی ممتا بنرجی حکومت انتخابی فائدہ کے لیے بنگلہ دیشیوں کی دراندازی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔‘‘ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخاب آتے ہی لوگ یہاں نظر آنے لگتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ دراندازی اگر بنگال سے ہوتی ہے تو کیا پہلگام میں آپ نے حملہ کیا تھا؟ دہلی میں ہوئے واقعہ کے پیچھے کا ذمہ دار کون ہے؟ کولکاتہ میں امت شاہ کے دراندزی والے بیان کا جواب دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ’’شکونی کا چیلا دُشاسن مغربی بنگال میں معلومات جمع کرنے آیا ہے۔ ریاست میں جیسے ہی انتخاب آتا ہے، دُشاسن اور دریودھن نظر آنے لگ جاتے ہیں۔‘‘ ممتا بنرجی نے بانکوڑا میں منعقد ایک ریلی میں بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’انتخاب سے قبل وہ سونار بنگلہ کا وعدہ کرتے ہیں، لیکن دوسری ریاستوں میں بنگلہ بولنے والے لوگوں کی پٹائی کرتے ہیں۔‘‘
امت شاہ کی جانب سے بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل علاقہ میں باڑ لگانے کو لے کر ریاستی حکومت سے زمین نہیں دیے جانے کے الزام پر بھی ممتا بنرجی نے ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج وہ کہہ رہے ہیں کہ ممتا بنرجی نے زمین نہیں دی۔ پٹراپول اور انڈال میں زمین کس نے دی؟ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ درانداز صرف بنگال سے ہی داخل ہوتے ہیں۔
اگر ایسا ہے تو کیا آپ نے پہلگام میں حملہ کیا تھا؟ دہلی میں پیش آئے واقعہ کے پیچھے کون تھا؟‘‘ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) عمل پر ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’وہ (بی جے پی) ایس آئی آر کے نام پر لوگوں کو ہراساں اور پریشان کر رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کی وجہ سے اب تک تقریباً 60 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر عمل ’اے آئی‘ کا استعمال کر کے کیا جا رہا ہے، یہ ایک بڑا گھوٹالہ ہے۔ ممتا بنرجی نے یہ بھی کہا کہ لوگ مغربی بنگال میں بی جے پی کو حکومت میں نہیں آنے دیں گے۔









