جلگاؤں30؍دسمبر(پریس ریلیز) جلگاؤں کے سپوت ڈاکٹر دستگیر شیخ کی سوانح کا شاندار اجراء عمل میں آیا ۔ ڈاکٹر دستگیر شیخ جلگاؤں میں پیداہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اینگلو اردو ہائی اسکول میں حاصل کی اور جونیئر کالج بھی اینگلو جونیر کا لج سے پاس کیا اور گریجویشن نوتن مراٹھا کالج جلگاؤں سے کیا ۔ پی ایچ ڈی پلازما انسٹیٹیوٹ احمدآباد سے کیا اور آگے بڑھائ کے لئے امریکہ چلے گئے ۔‌امریکہ میں پڑھائی پوری کرکے سائنٹیسٹ بن گئی اور ناسا سے جڑگئی ۔ ڈاکٹر دستگیر شیخ کی تعلیم کے لئے جدو جہد مشکل حالات میں اپنی منزل کو حاصل کرنے کی کہانی اتنی دلچسپ ہے جسے دستگیر کی جونیر صبیحہ قادری نے رقم کیاہے صبیحہ قادری نے نہایت دلچسپ انداز سے سوانح دستگیر کو رقم کیا ہے ۔ سوانح دستگیر کی زخامت تین سو بیس صفحات پر مشتمل ہے ۔صبیحہ نے دستگیر کی سوانح کو دلچسپ بنانے کے لئے 191 عنوانات میں تقسیم کرکے رقم کیا ہے ۔ عنوانات کی بہتات کتاب کو دلچسپ بنانے میں اہم رول ادا کررہے ہیں عنوانات کے باعث قاری سوانح دستگیر کے مطالعے میں غرق ہوجاتا ہے ۔ اجراء کی رسم ادا کرنے کے لئے ہندوستان کے معروف ادیب اور آل انڈیا افسانچہ اکادمی کے صدر ڈاکٹر رونق جمال کو درگ چھتیس گڑھ سے مدعو کیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر رونق جمال نے سوانح دستگیر کا اجراء کرنے کے بعد اپنے صدارتی خطبے میں سوانح دستگیر کی بے انتہا تعریف کی صبیحہ قادری کی حوصلہ افزائی اور تعریف کی اور انہیں مبارکباد پیش کی ۔ جمال نے طلباء وطالبات سے سوانح دستگیر کو خرید کر پڑھنے کی گزارش کی اور وجہ بتائی کے سوانح دستگیر صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ ایک رہنما ہے ۔ قطب نما ہے جو طلبا وطالبات کو پڑھائی کے میدان میں مدد کرے گی رہنمائی کرے گی ۔ رونق نے کہا کے کتاب اتنی دلچسپ ہے کے انہوں نے پانچ گھنٹے کی ایک ہی نشست میں کتاب کو پڑھ لیا ۔
جمال نے کہا کے تین سو بیس صفحات کی کتاب میں انھیں ایک جملے نے بے حد متاثر کیا ہے جو اس طرح ہے ۔ ” بیٹا تعلیم ایسا چراغ ہے جو تمہاری زندگی کے اندھیرے دور کرے گا ” یہ جملہ دستگیر کے والد محترم جناب مرحوم ایڈوکیٹ وحید صاحب نے اپنے بیٹے دستگیر کے ابتدائی تعلیم کے دوران کہا تھا ۔ جسے دستگیر نے سچ کر دکھایا آج دستگیر اپنی اعلیٰ تعلیم کے باعث ناسا کا ایک محترم ساءنسدان بنا ہوا ہے ۔ جمال نے دستگیر کی تعلیم حاصل کرنے کی جدو جہد کو مثالی جدو جہد کہا ہے اور ملک کے ہر نوجوان کو اسی جذبے سے تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا ۔ جمال نے کہا کہ ای پی جے ڈاکٹر کلام صاحب کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے دستگیر پر کرسکتا ہے ۔ جمال نے اردو میڈیم تعلیم پر تنقید کرنے والوں کے سلسلے میں کہا کہ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرکے کیا ملے گا ۔ ؟ جمال نے نہایت اعتماد سے کہا کے اب یہ سوال کرنے والوں کو میں جواب دوں گا ۔ اردو میڈیم سے پڑھ کر ناسا میں کام کرنے کاموقع ملے گا ۔ دستگیر جیسارتبہ ملے گا دستگیر جیسی عزت ملی گی ۔‌دستگیر جیسا احترام ملے گا ۔ دستگیر جیسی کامیاب زندگی ملے گی ۔جمال نے اس موقع پر اردو کی تعریف میں اپنے دو شعر پڑھے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔
اردو دنیا میں ہے
دنیا اردو میں ہے
اردو میں ہے رونق
جمال اردو میں ہے
پروگرام میں جلگاؤں کے معزز حضرات کے علاوہ دستگیر کے اسکول ، جونیئر کالج اور سنیر کالج کے اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور دستگیر کے تعلیم سے دلچسپی کے قصے بھی سنائے ۔جن میں قابل ذکر نام اس طرح ہے ۔ اعجاز ملک صاحب بابو شیخ سر صغیر سر ناصر سر اقبال سر نثار سر ، راجیش دیشمکھ سر شاکر شیخ صاحب وغیرہ وغیرہ ۔ پروگرام کا انعقاد دستگیر کے چھوٹے بھائی رئیس شیخ نے کیا تھا ۔ دستگیر کے بڑے بھائی پرویز شیخ بطور خاص پروگرام میں شرکت کے لئے امریکہ سے تشریف لائے تھے ۔ پروگرام میں ڈاکٹر دستگیر نے اسکرین کے ذریعے شرکت کی اور اپنی باتیں رکھی ۔ اپنے اساتذہ اور ڈاکٹر رونق جمال ، صبیحہ قادری کا شکریہ ادا کیا ۔پروگرام کی کامیاب نظامت کے فرائض جناب شفیق صدیقی سر نے بخوبی انجام دیئے ۔