نئی دہلی 24دسمبر:اناؤ عصمت دری معاملے کی متاثرہ نے بدھ کے روز دہلی میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات سونیا گاندھی کی رہائش گاہ ’10 جن پتھ‘ پر ہوئی، جہاں متاثرہ نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے مجرم کلدیپ سنگھ سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کیے جانے پر اپنے شدید دکھ اور خدشات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد متاثرہ نے کہا کہ ’’یہ اس ملک کا انصاف نہیں، بلکہ کھلی ناانصافی ہے۔‘‘ متاثرہ کے مطابق، سونیا گاندھی نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں اور کانگریس قیادت ہر ممکن مدد کرے گی۔ متاثرہ نے بتایا کہ اس موقع پر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی دونوں کی آنکھیں نم تھیں اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ متاثرہ نے یہ بھی کہا کہ وہ وزیر اعظم سے ملاقات کر کے اپنا دکھ درد بیان کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ ان کے مطابق ’’میرا ہے ہی کون، میں انہی لوگوں سے اپنا دکھ کہہ سکتی ہوں۔‘‘ اس ملاقات کے دوران متاثرہ نے راہل گاندھی کے سامنے تین اہم مانگیں رکھیں۔ پہلی مانگ یہ تھی کہ سپریم کورٹ میں مؤثر قانونی لڑائی کے لیے ایک بڑے اور تجربہ کار وکیل کا انتظام کیا جائے۔ دوسری مانگ خاندان کی سلامتی سے متعلق تھی، متاثرہ کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور وہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہی ہیں۔
تیسری مانگ متاثرہ کے شوہر کی جانب سے بہتر روزگار کی فراہمی سے متعلق تھی، تاکہ خاندان باعزت طریقے سے اپنی زندگی گزار سکے۔ راہل گاندھی نے ان مانگوں پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔