دہرہ دون19دسمبر:اتراکھنڈ حکومت یکم جنوری 2026 سے گاڑیوں کے متعلق ایک نیا نظام نافذ کرنے والی ہے۔ حکومت پرائیویٹ گاڑیوں پر ’گرین سیس‘ وصول کرنے والا سسٹم نافذ کرنے جا رہی ہے۔ اس پیش قدمی کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینا اور سڑک سیکورٹی سے منسلک سرگرمیوں کے لیے اضافی وسائل جمع کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے ذریعہ اس منصوبہ میں ہو رہی تاخیر پر ناراضگی ظاہر کیے جانے کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ نے سرگرمی کا مظاہرہ کیا اور ضروری سافٹ ویئر تیار کر لیا گیا ہے۔ فی الحال اس کی ٹیسٹنگ چل رہی ہے۔ اب تک اتراکھنڈ میں دوسری ریاستوں سے آنے والی صرف کمرشیل گاڑیوں سے ہی ’گرین سیس‘ کی وصولی کی جا رہی تھی، لیکن نئے نظام کے تحت اب پرائیویٹ گاڑیاں بھی اس دائرے میں آئیں گی۔ اس ’سیس‘ سے ملنے والی رقم کا استعمال سڑک سیکورٹی ترکیبوں اور شجر کاری مہم میں کیا جائے گا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس نظام کو چلانے کے لیے ایک پرائیویٹ ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ریاست کی سرحدوں پر لگائے گئے 15 آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکاگنیشن (اے این پی آر) کیمروں کے ذریعہ باہر سے آنے والی گاڑیوں کی شناخت کی جائے گی۔ یہ کیمرے گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر پڑھ کر طے کریں گے کہ گاڑیاں ریاست کے باہر کی ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد ٹول ٹیکس کے طرز پر ’گرین سیس کی رقم گاڑی میں لگے فاسٹیگ اکاؤنٹ سے خود بخود کٹ جائے گی۔ یہ سیس 24 گھنٹے کے لیے قابل قبول ہوگا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ’گرین سیس‘ سے کچھ زمروں کی گاڑیوں کو چھوٹ دینے کی تجویز رکھی ہے۔ اس میں دو پہیہ اور سہ پہیہ گاڑیاں، الیکٹرک اور سی این جی سے چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری گاڑیاں، فائر بریگیڈ اور ایمبولنس سروسز کو بھی اس ’سیس‘ سے استثنیٰ رکھا جائے گا، تاکہ ضروری اور ایمرجنسی خدمات پر کوئی اثر نہ پڑے۔









