نئی دہلی16دسمبر: سپریم کورٹ آف انڈیا نے مختلف ریاستوں کی جانب سے بنائے گئے تبدیلیٔ مذہب قوانین، جنہیں عام طور پر ’لو جہاد‘ قوانین کہا جاتا ہے، کو چیلنج کرنے والی عرضداشتوں پر 28 جنوری 2026 کو حتمی بحث کے لیے فریقین کو تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے آج اس اہم آئینی معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومتوں کو اعتراضات داخل کرنے کے لیے مہلت بھی دی۔ چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالا باگچی پر مشتمل بنچ کے روبرو سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل آف انڈیا، جو تبدیلیٔ مذہب قوانین بنانے والی ریاستی حکومتوں کی نمائندگی کر رہے تھے، نے عرضداشتوں پر تفصیلی اعتراضات داخل کرنے کے لیے وقت طلب کیا۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 3 ہفتوں کے اندر اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت دی۔ جاری کردہ پریس بیان کے مطابق، عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء سمیت دیگر وکلاء پیش ہوئے۔ دیگر تنظیموں کی نمائندگی سینئر وکلاء سی یو سنگھ اور اندرا جئے سنگھ نے کی۔ پریس بیان کے مطابق، صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، گجرات، جھارکھنڈ، ہماچل پردیش، ہریانہ، کرناٹک اور دیگر ریاستوں میں نافذ تبدیلیٔ مذہب قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس مقدمے کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کر رہی ہے۔









