نئی دہلی14دسمبر:دہلی میں فضائی آلودگی میں گزرتے وقت کے ساتھ بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، گزشتہ 2 ماہ سے صورتحال ایک جیسی بنی ہوئی ہے۔ آج بھی دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 500 کو پار کر رہا ہے۔ قومی راجدھانی میں گریپ 4 نافذ ہو گیا ہے اور اپوزیشن پارٹی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مناسب قدم نہ اٹھانے کو لے کر بی جی پی کی ریکھا حکومت کو ہدف تنقید بنا رہی ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں گریپ 4 نافذ ہونے پر عام آدمی پارٹی دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج نے ’اے این آئی‘ سے کہا کہ ’’یہ حکومت تقریباً ایک سال سے اقتدار میں ہے۔ اس ملک میں کہیں بھی پرالی جلانے کے واقعات پیش نہیں آ رہے ہیں۔ آلودگی کی حالت یہ ہے کہ بند کمرے کے اندر بھی ہمیں دھند نظر آ رہا ہے۔‘‘ سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ ’’دہلی کی وزیر اعلیٰ کو نہیں معلوم کہ اے کیو آئی کیا ہوتا ہے؟ وہ کہتی ہیں کہ کوئی بھی آلہ اے کیو آئی کی پیمائش کر سکتا ہے۔ دہلی کے لوگ آئندہ 4 سالوں میں وزیر اعلیٰ سے کیا امید کریں گے؟ میرا خیال ہے کہ ماہرین کو آگے آنا چاہیے اور وزیر اعلیٰ کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ خطرناک آلودگی کے سبب دہلی میں گریپ 4 نافذ کر دیا گیا ہے۔ ہوا کے معیار کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش میں گریپ پر سی اے کیو ایم نے پورے این سی آر میں موجودہ گریپ کے اسٹیج-4 کو نافذ کیا۔ اس کے علاوہ این سی آر آلودگی کنٹرول بورڈ اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس علاقے میں ہوا کے معیار کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات میں تیزی لائیں۔