ناسک 13(پریس ریلیز )ساہتیہ اکادمی دہلی اور اسکول برائے انسانی و سماجی علوم یشونت راو چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی ناسک،مہاراشٹر کے باہمی اشتراک کے عنوان سے (اکیسویں صدی میں اردو نظم ) کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا ۔سمینار کا افتتاح یشونت راو چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سنجیو سوناونے نے کرتے ہوئے کہا کہ سمینار کے انعقاد کا مقصد ہندستانی عناصر کو تلاش کرنا اور زبان کے حوالے سے صالح قدروں کو عام کرنا ہے ۔انہوں نے ساہتیہ اکادمی کا شکریہ اداکرتے ہوئے ایسے مزید سمینار کے انعقاد کا اعلان کیا تاکہ زبانوں کے کارواں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پروگرام میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ممتاز ادیب و محقق ڈاکٹر مہتاب عالم نے کہا کہ اکیسویں صدی میں اردو نظم نے خیالات کو وسعت اور گہرائی عطا کی ہے ۔اکیسویں صدی کی نظم میں جہاں فیمنزم کو فروغ ملا ہے وہیں اقلیتوں،دلتوں اور پسماندہ طبقات کے مسائل موثر انداز میں تخلیق کا حصہ بنے ہیں۔حاشیائی موضوعات کو اکیسویں صدی میں جس طرح سے مرکزیت حاصل ہوئی ہے وہ قابل تحسین ہے ۔اس سے جذبات میں شدت اور فکر میں گہرائی کے ساتھ موضوعات میں تنوع پیدا ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ناسک تاریخی سرزمین ہے۔یہاں مریادا پرشوتم نے سادھنا کی تو ممتاز صوفی حضرت صادق شاہ رحمة اللہ نے ریاضت کی اور صلح کل کا پیغام عام کیا۔صلح کل کے اسی پیغام کو ہر جگہ عام کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس سے قبل ممتاز ہندی اردو اسکالر اور ساہتیہ اکادمی(ہندی) کے ایڈیٹر انوپم تیواری نے خیر مقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے اردو نظم،جدید نظم پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔پروگرام کے افتتاحی سیشن میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے یشونت راو چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر جوگیندر سنگھ بسین نے کہا کہ زبانیں دلوں کو جوڑنے اور محبت کو عام کرنے کا کام کرتی ہیں ۔ڈاکٹر مہتاب عالم نے اپنے کلیدی خطبہ میں ناسک سے پربھو شری رام کا رشتہ اور سادھنا پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اکیسویں صدی میں اردو نظم کے موضوعات،ہیئت اور تکنیک پر روشنی ڈالی۔انہوں نے سمندر منتھن کی بات کی لیکن سمندر منتھن میں امرت کے ساتھ وش بھی نکلا تھا ۔امرت تو سب پینا چاہتے ہیں لیکن وش زہر کو کوئی نہیں پینا چاہتا ہے۔یہ ساتیہ کار ہی ہوتا ہے جو سماج کے زہر کو پی کر اپنے لفظوں سے امرت کی راہ ہموار کرتا ہے ۔اسکول برائے انسانی و سماجی علوم ناسک یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ناگارجن واڈیکر نے اظہار تشکر ادا کیا ۔ افتتاحی سیشن کے پروگرام کی نظامت کے فرائض ممتاز ادیب و محقق ڈاکٹر رشید اشرف خان نے انجام دئے اور اپنی نظامت کے منفرد انداز سے پروگرام کے حسن کو دوبالا کیا۔
اسکول برائے انسانی و سماجی علوم اور ساہتیہ اکادمی دہلی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں افتتاحی سیشن کے علاوہ دو ٹکینکل سیشن کا انعقاد کیا گیا ۔پہلے ٹیکنکل سیشن کی صدارت کے فرائض ممتاز ادیبہ ڈاکٹر صادقہ نواب سحرنے انجام دئے جبکہ استوتی اگروال ،ڈاکٹر سید نورالامین اور ڈاکٹر ابرار احمد نے اکیسویں صدی میں اردو نظم کے حوالے سے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا ۔پہلے ٹیکنکل سیشن کی نظامت دھما رتنا جاولے اسکول برائے انسانی و سماجی علوم نے انجام دی جبکہ دوسرے ٹیکنکل سیشن کی صدارت نامور ادیب و محقق ڈاکٹر تنویر حسن نے بحسن و خوبی انجام دی اور دانش غنی ،رشید اشرف خان نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا ۔دوسرے ٹیکنکل سیشن کی نظامت کے فرائض روپالی گائکواڈ نے انجام دی ۔اظہار تشکر ڈاکٹر شاہین شیخ نے ادا کیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سمینار کا آغاز یونیورسٹی کے ترانے سے کیا گیا جبکہ سمینار کا اختتام راشٹرگان سے کیا گیا ۔









