بھوپال:09؍دسمبر:(پریس ریلیز)کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی شاخ، مجلس تحفظ ختم نبوت بھوپال کے زیر اہتمام 7, دسمبر 2025ء بروز اتوار دو اہم دینی و علمی پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے جس میں شہر بھوپال کے ممتاز علماء، دانشوران، سرپرستان مدارس اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پہلا پروگرام: مسابقۃ العقائد بین المکاتب الاسلامیہ (فائنل)
شہر بھوپال میں عقائد کے موضوع پر تاریخ میں پہلی بار مسابقہ منعقد ہوا جو صبح 8, بجے تا 1, بجے جاری رہا۔ شہر بھوپال کے 27 مکاتب اسلامیہ کے 47 طلباء وطالبات نے بھرپور تیاری کے ساتھ فائنل مسابقہ میں شرکت کی اور امتیازی نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کی، مجلس کے صدر، نائب صدر، سیکرٹری، ارکان مجلس اور شہر کے اہم علمی ودینی شخصیات کے ساتھ ساتھ امیر ختم نبوت حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری برکاتہم العالیہ بھی بالمشافہ موجود رہے اور طلبہ کی ہمت افزائی فرمائی۔ اس مسابقہ کا مقصد نوجوان نسل میں صحیح عقائد، فکری استقامت اور علمی بیداری کو فروغ دینا تھا جو بحمدللہ نہایت کامیابی کے ساتھ پورا ہوا۔
بعد نماز مغرب اجلاس عام و انعامی پروگرام:
بعد نماز مغرب مجلس تحفظ ختم نبوت بھوپال کے دفتر سے متصل عمومی اجلاس عام کا آغاز ہوا۔اس سیشن میںنظامت کے فرائض مفتی مسرور نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ آغاز میں انہوں نے عقائد اسلامیہ سے متعلق نہایت قیمتی اور جامع تمہیدی گفتگو پیش فرمائی۔مجلس کا آغاز قران مجید کی تلاوت سے ہوا۔قرآن مجید کی تلاوت مفتی محمد رفیق منیری نے کی۔ نعت: مولانا اکرام مظاہری نے پیش کی۔بعد ازاں مولانا محمد یعقوب خان صاحب جامعی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت بھوپال نے مجلس کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے مقاصد و خدمات اور حالیہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالی،جبکہ نائب صدرت مفتی ڈاکٹر محمد اکمل یزدانی قاسمی نے مجلس کے اغراض و مقاصد کے ساتھ ساتھ پروگرام کے اغراض و مقاصد کو واضح انداز میں بیان فرمائے۔اس موقع پر اسٹیج پر شہر کے متعدد و مؤقر علماء کرام جلوہ افروز رہے جن میں بالخصوص مفتی محمد مقصود نجمی قاسمی ( استاذ جامعہ ابو طلحہ)، مولانا محمد عابد مظاہری( استاذ مسجد ترجمہ والی)، مولانا محمد تبریز جامعی( استاذ و ناظم مسجد ترجمہ والی)، مولانا عبدالحفیظ (استاذ و ناظم مدرسہ زینت القرآن و امام و خطیب مسجد بلقیس جہاں عارف نگر)، مفتی طاہر قاسمی (نائب ناظم جامعہ ابوطلحہ)، مولانا شرافت رحمانی (نائب شہر قاضی بھوپال)، مفتی محمد نعیم ( ناظم مدرسہ مریم تعلیم القرآن)، مولانا محمد یعقوب خان صاحب جامعی (صدر مجلس ہذا)، مفتی ڈاکٹر اکمل یزدانی قاسمی( نائب صدر مجلس ہذا)، مفتی مسرور( نائب صدر مجلس ہذا)، مولانا محمد فیضان ( نائب ناظم مجلس ہذا)، جناب ڈاکٹر عارف چودھری( خزانچی مجلس ہذا)، جناب چاند محمد ( رکن مجلس ہذا)، جناب خان بہادر( رکن مجلس ہذا)، مولانا محمد اکرام ( امام مجلس ہذا)، مفتی محمد رفیق ( منیری رکن مجلس ہذا)، مولانا محمد شاداب مبلغ مجلس ہذا)۔ان تمام حضرات کی موجودگی نے پروگرام میں روحانیت، وقار اور علمی شان پیدا کردی۔
اس تقریب کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ حضرت مولانا شاہ عالم صاحب کی قریب ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل روح پرور اور نہایت مدلل گفتگو تھی جس نے سامعین کے دلوں میں یقین و استقامت کی تازہ روح پھونک دی، حضرت نے اپنی گفتگو کو تین بنیادی نکات پر مرتب فرمایا۔
1) دین اسلام کی عظمت و انفرادیت:
حضرت نے بڑے سادہ مگر نہایت مضبوط دلائل کے ساتھ اسلام کی چار نمایاں خوبیاں بیان فرمائیں:
1) اسلام ایسا مذہب ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے لے کر امت کو بتایا ہے۔
2) یہ دین متواتر ہے۔ (اس کے اندر ڈسکنیکٹنگ نہیں ہے)
3) یہ دین آج اپنی کامل شکل میں الحمدللہ موجود ہے۔
4) یہ دین آج تک الحمدللہ محفوظ بھی ہے اور دین اسلام اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ چاہیں گے۔
مذہب اسلام کے علاوہ کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس میں یہ چاروں خوبیاں پائی جاتی ہوں اور حضرت مولانا نے ان تمام باتوں کو عام فہم مثالوں سے واضح کیا۔
2) مسلمان آج ذلیل و خوار اور پریشان کیوں ہیں؟
حضرت نے نہایت درد کے ساتھ فرمایا کہ دنیا بھر میں مسلمان ظلم و زیادتی کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں۔ اس کی وجہ مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی خامیاں ہیں یہ نہیں کہ دشمن طاقتور ہے، مسلمانوں کے پاس وسائل کم ہیں، مسلمان کے دین اسلام میں کوئی کمی پیدا ہو گئ ہے یا مسلمان کی تعداد کم ہے۔ اس بات کو بہت واضح انداز میں مثالوں کے ساتھ سمجھایا۔
3) اس پریشانی کا واحد حل عقائد کی حفاظت اور نسلوں کی تربیت:
حضرت نے بڑے جزم کے ساتھ فرمایا کہ: اسلام کو نقصان نہیں پہنچ سکتا نقصان ہمیشہ مسلمانوں کو پہنچا ہے جب وہ اپنے عقائد سے دور ہو جاتے ہیں۔حضرت نے فرمایا کہ ہماری نسلیں اس وقت بچ سکتی ہیں جب ہم اپنے بچوں کو عقائد پڑھائے نہیں بلکہ یاد کرائیں کیونکہ عقائد حفظ کرنے کی چیز ہے صرف پڑھانے کی نہیں۔بچوں کے عقائد مضبوط ہوں تو کوئی انہیں بے ایمان نہیں بنا سکتا۔ پھر وہ نہ خود مرتد اور کسی فتنے کا شکار ہوں گے اور نہ دوسرے کو ہونے دیں گے۔وہ جہاں بھی رہیں گے خود بھی اپنے ایمان اور عقائد کے محافظ ہوں گے اور دوسروں کے ایمان و عقائد کے بھی محافظ ہوں گے وہ جہاں رہیں گے خود فتنوں سے محفوظ رہیں گے اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں گے۔
حضرت نے واقعہ اصحاب کہف کو مختصراً بیان کر کے یہ بات بھی واضح کر دی کہ ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کا ذمہ خود لینا ہے نہ کہ اس کے ایمان کی حفاظت کا ذمہ دار کوئی اور ہے اس لیے کہ اصحاب کہف نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے خود جد وجہد کی تھی اور انہوں نے بستی کو خیر آباد کہہ دیا تھا حضرت کی اس گفتگو نے سامعین کے اندر ذمہ داری، درد دل اور ایمان کی تازگی پیدا کر دی۔
پروگرام کا اختتام: انعامات، اسناد، اعزازات اور دعا:
اختتام پر مسابقۃ العقائد بین المقاب الاسلامیہ میں شریک ہونے والے 103 طلباء وطالبات کو عمومی انعامات، سند شرکت (سرٹیفیکیٹ) عطا کیے گئے۔ مزید برآں جس جس مکتب کے طلباء نے شرکت کی ان مکاتب کے ذمہ داران کے ذریعے ان اداروں کو بھی سند اعزازی سے نوازا گیا۔
خصوصی پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء وطالبات:
تینوں فرع (اول، دوم، سوم) میں سے جو طلبہ وطالبات اول، دوم، سوم پوزیشن حاصل کرنے والے تھے انہیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں شامل تھے ٹرالی بیگ، ٹرافی، کتب مجلس ہذا و دیگر کتب، سرٹیفکٹ۔ اسی طرح اساتذہ کرام جن کے شاگردوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی ان اساتذہ کو بھی خصوصی ٹرافیاں پیش کی گئیں اور ان کا اعزاز کیا گیا ہے۔فائنل، سیمی فائنل اور انعامی پروگرام کے حکام، سائلین اور ناظمین کی خصوصی پذیرائی۔وہ تمام علماء کرام جنہوں نے سیمی فائنل، فائنل اور عمومی و انعامی پروگرام میں علمی ذمہ داری انجام دی۔انہیں بھی اعزازی بیگ اور مجلس ہذا کی کتب عطا کی گئیں۔
وہیں دوسری نشست بعد نماز مغرب سے قریب 10 بجے رات حضرت مولانا شاہ عالم صاحب(زیر اہتمام مجلس تحفظ ختم نبوت بھوپال شاخ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند) بورت پوری دامت برکاتہم العالیہ کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔









