بابائے قوم مولانا علی حسین عاصم بہاریؒ کے یومِ پیدائش پرگذشتہ دنوں پٹنہ میں ایک باوقار پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں مختلف سماجی و تعلیمی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ شہر کے عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت چیئرمین مدرسہ بورڈ جناب سلیم پرویزنے کی جبکہ مہمانِ خصوصی سابق ڈی جی اور معروف سماجی رہنما جناب ایم.ڈبلیو.انصاری (آئی پی ایس) رہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں چیئرمین مدرسہ بورڈسلیم پرویزنے بابائے قوم علی حسین عاصم بہاری کی حیات و خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔آپ نے اعلان کیا کہ آئندہ 8؍جنوری کو ثانیٔ ٹیپو سلطان شہید شیخ بھکاری اور 18؍ جنوری کو بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کے یومِ پیدائش بھی اسی شان کے ساتھ منائے جائیں گے تاکہ نئی نسل کو اپنی حقیقی تاریخ سے واقف کرایا جا سکے۔آپ نے محسن گاندھی بخت میاں عرف بطخ میاں انصاری کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت سے سوال کیا کہ آخر انہیں کب انصاف ملے گا؟ صدر جمہوریہ کا وعدہ پورا کرکے انہیں 35؍ بیگھہ زمین آخر کون سی حکومت دے گی۔ آپ نے سامعین کو یہ بھروسہ دلایا کہ جب تک بخت میاں کو انصاف نہیں ملے گا ہماری جد و جہد جاری رہے گی۔پروگرام کے مہمان خصوصی محترم ایم ڈبلیو انصاری نے اپنے تفصیلی اور مدلل خطاب میں کہا کہ جب تک1950 کے صدارتی آرڈر(Presidential Order) کے تحت مسلم اور عیسائی دلتوں پر مسلط غیر آئینی امتیاز ختم نہیں ہوتا، ملک میں سماجی انصاف کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔ یہ آرڈر بھارتی آئین کی روح ’’برابری اور انصاف‘‘کے خلاف ہے، جسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہئے۔
آپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم و عیسائی ایس سی کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھنا کھلی ناانصافی ہے۔ ہمیں ہر پلیٹ فارم، ہر فورم، ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔جب تک کہ یہ امتیازی شق ختم نہیں ہو جاتی۔انہوں نے مزید کہا کہ پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے اوبی سی ریزرویشن پر مکمل عمل ہو تاکہ انتہائی پسماندہ طبقات کو بھی اپنا حصہ مل سکے۔ذاتی مردم شماری (Caste Census) کرائی جائے تاکہ نمائندگی آبادی کے حقیقی تناسب سے ہو۔ وقف املاک کے تحفظ، ریکارڈ کی درستی، حد بندی اور دیگر تحفظی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ دلت مسلم اور او بی سی مسلم کو آبادی کے تناسب سے آئینی ریزرویشن دیا جائے۔ جو طبقات دہائیوں سے حق تلفی کا شکار ہیں، انہیں ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی آبادی کے تناسب سے جگہ ملنی چاہئے۔ اس کیلئے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں مشترکہ پٹیشن دائر کی جانی چاہئے۔
ان کے علاوہ سینئر صحافی جناب ساجد پرویز،عرفان جامعی،سابق ممبر مدرسہ بورڈ عثمان حلال خور سمیت دیگر مقررین نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی مردم شماری وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ او بی سی خواتین کو ریزرویشن میں ان کا کوٹہ دیا جائے۔اقلیتی طلبہ کیلئے معیاری کوچنگ، اسکالرشپ، ہاسٹل سہولیات اور ہنرمندی پروگرام شروع کیے جائیں۔وقف جائیدادوں کی حفاظت، تجاوزات کا خاتمہ اور شفاف استعمال یقینی بنایا جائے۔مآب لنچنگ کے خلاف سخت قانون پر سختی سے عمل کیا جائے۔پروگرام کی نظامت کے فرائض شبیر انصاری نے بحسن خوبی انجام دئیے۔ ان کے علاوہ سماجی کارکن محترم ارجن ٹھاکر، کنال کشور، ہشام الدین، شاہد انصاری، علی امام بھارتی اور شہر بھر سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
پروگرام کے منتظم اور پسماندہ مورچہ کے صدر ہمایوں انصاری نے تمام مہمانوں کو شکریہ ادا کیا ۔ پروگرام کے آخر میں تمام ہی مہمانوں نے یک زبان کہا کہ سماجی انصاف، بھائی چارہ، آئین کا لحاظ اور نمائندگی کے مساوی حقوق، یہی علی حسین عاصم بہاری کا پیغام ہے اور ہمیں مل کر اس جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔