نئی دہلی 7دسمبر:ہندوستان کے سابق چیف جسٹس بی آر گوئی نے کہا ہے کہ درج فہرست ذات کے لیے کریمی لیئر کے اصول کے نفاذ کی حمایت کرنے پر اپنی ہی برادری کے لوگوں نے مجھ پر تنقید کی تھی۔ جسٹس گوئی نے کہا کہ ڈاکٹرامبیڈکرمانتے تھے کہ مثبت اقدام (افرمیٹیوایکشن) ایسا ہے جیسے کسی پیچھے چھوٹتے شخص کو سائیکل دینا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو پھر کبھی سائیکل نہیں چھوڑنا چاہیے، اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ امبیڈکرایسا چاہتے۔جسٹس گوئی حال ہی میں چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ ہفتہ کو ممبئی یونیورسٹی میں ’یکساں مواقع کو فروغ دینے میں افرمیٹیوایکشن کا کردار‘ پر خطاب کررہے تھے۔ اس دوران انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امبیڈکر نہ صرف ہندوستانی آئین بلکہ اس میں شامل مثبت عمل کے نظام کے بھی معمارتھے۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب کا خیال تھا کہ جہاں تک افرمیٹیو ایکشن کی بات ہے، یہ ان لوگوں کو سائیگل دینے جیسا ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں، فرض کریں کہ کوئی دسویں کلومیٹر پر ہے اور کوئی زیرو کلومیٹر پر ہے تو اسے (بعد والے کو) سائیکل دی جانی چاہیے تاکہ وہ دسویں کلومیٹر تک تیزی سے پہنچ سکے۔ وہاں سے وہ پہلے سے موجود شخص کے برابر آسکتا ہے اور وہاں سے دونوں ساتھ چل سکتے ہیں۔ کیا انہوں ( ڈاکٹرامبیڈکر) نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اب ان افراد کو سائیکل چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہئے تاکہ زیرو کلومیٹر پر موجود دوسرے لوگ بھی آگے آسکیں؟ سابق چیف جسٹس نے کہا کہ میری رائے میں بابا صاحب امبیڈکراصل میں سماجی اور معاشی انصاف لانا چاہتے تھے نہ کہ صرف رسمی طور پر۔ گوئی نے کہا کہ اندرا ساہنی اور دیگر بمقابلہ یونین آف انڈیا کیس میں کریمی لیئر کا اصول بتایا گیا تھا اور ایک دوسرے معاملے میں انہوں نے خود کہا تھا کہ کریمی لیئراصول کو درج فہرست ذات پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔ اس اصول کے مطابق جو لوگ معاشی اور سماجی طور سے آگے ہیں انہیں افرمیٹیوایکشن( مثبت اقدام) کا فائدہ نہیں ملنا چاہئے خواہ وہ اس پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہوں جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔









