نئی دہلی 6دسمبر:انڈیگو ایئرلائن کے سامنے اس وقت اپنی خدمات کو سنبھالنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ 5 دنوں میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جس نے ملک میں ایک افرا تفری جیسی حالت پیدا کر دی ہے۔ اس بحران والی حالت کے لیے انڈیگو نے ’وی آر سوری‘ (ہم معافی چاہتے ہیں) ضرور کہہ دیا ہے، لیکن صرف معافی مانگنے سے مسئلہ کا حل نہیں ہونے والا۔ انھیں کئی اہم سوالوں کے جواب دینے ہوں گے، جن میں 5 سوالات تو عام لوگ بھی پوچھ رہے ہیں جو اس طرح ہیں: ث نئے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کیوں نہیں کی؟ثتنبیہ کے بعد بھی ’بیک اَپ پلان‘ کیوں نہیں تھا؟ث پائلٹ، عملہ کے اہلکاروں کا درست اندازہ کیوں نہیں لگایا؟ثعملہ کے اہلکاروں کی ٹریننگ اور روسٹر بنانے میں کامیاں کس طرح ہوئیں؟ثفلائٹ کینسلیشن سے متعلق صحیح جانکاری کیوں نہیں؟ثدراصل انڈیگو ایئرلائن ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن کمپنی ہے، اس وجہ سے پیدا بحران کا اثر بہت زیادہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس عدم سہولت پر انڈیگو کی طرف سے معافی مانگتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرانے اصولوں میں تبدیلی نافذ ہونے کے سبب مسائل پیدا ہوئے۔
ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اصولوں میں تبدیلی تو دیگر ایئرلائنس کے لیے بھی ہوئی تھیں، پھر دقتیں صرف انڈیگو کے ساتھ کیوں ہوئیں؟ ظاہر ہے یہ لاپروائی کا نتیجہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بھی جانچ کے بعد کارروائی کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔انڈیگو کے چیف ایگزیکٹیو افسر پیٹر ایلبرس نے پروازوں کی منسوخی اور تاخیر پر معافی مانگتے ہوئے بھروسہ دلایا ہے کہ جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں گے۔ وہ 10 سے 15 دسمبر تک حالات معمول پر آ جانے کی امید ظاہر کر رہے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ دنوں میں کی گئی ترکیبیں بدقسمتی سے کافی ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ آئندہ انڈیگو کے ذمہ داران کس طرح کی ترکیب کرتے ہیں۔ ایلبرس موجودہ حالات سے باہر نکلنے کی کوششوں پر کہتے ہیں کہ ’’ابھی بہت کام باقی ہے، لیکن آگے بڑھتے ہوئے وزارت برائے شہری ہوابازی اور ڈی جی سی اے کے ساتھ مل کر ہم ہر دن مزید بہتر ہونے کی امید کرتے ہیں۔‘‘