نئی دہلی23نومبر : ملک کے اگلے چیف جسٹس بننے جا رہے جسٹس سوریہ کانت نے ہندوستان عدلیہ کے مستقبل کو لے کر بڑا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے واضح کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہندوستان برطانوی ماڈل کی عدالتوں سے آگے بڑھ کر اپنی ’دیسی عدالتی نظام ’ تیار کرے،ایسا نظام جو ہندوستانی سماج، ہندوستانی عوام اور ہندوستانی تہذیب کے مطابق ہو۔ جسٹس سوریہ کانت پیر کے روز ملک کے 53ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیں گے۔ جسٹس سوریہ کانت نے بتایا کہ ہندوستانی عدلیہ کو حقیقی ہندوستانی شکل دینے کے لیے کئی سطحوں پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ صرف طریقہ کار میں نہیں بلکہ سوچ اور ڈھانچے میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی عدالتوں سے آگے بڑھ کر ہندوستانی ماڈل قائم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی عدالتیں آج بھی بڑی حد تک انہی نظاموں پر چل رہی ہیں جو برطانوی راج کے دوران بنائے گئے تھے، خواہ وہ عدالت کی کارروائی ہو، عدالت کی زبان ہو یا پرانے قوانین۔ جسٹس سوریہ کانت نے مزید کہا کہ پورا عدالتی ڈھانچہ نوآبادیاتی دور کے تناظر میں بنا تھا۔ اسے ہندوستانی سماج کی موجودہ ضرورتوں کے مطابق بدلنا ضروری ہے۔ یہ تبدیلی کئی سطحوں پر ہونی ہے۔ اسٹرکچرل، پروسیس اور جوڈیشری کلچر، تینوں کو ہندوستانی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نظامِ انصاف ایسا ہونا چاہئے کہ انصاف صرف کاغذ پر نہ رہے بلکہ عوام اسے محسوس کریں۔ انصاف ہندوستان کی سماجی ساخت کا حصہ بنے۔ انصاف صرف دیا نہ جائے، عوام اسے محسوس بھی کریں۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ نئے ہندوستان کا عدالتی نظام تبھی مضبوط ہوگا جب یہ عام شہری، خاص طور پر دیہی ہندوستان کے لیے آسان ہو۔ انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی عدالتیں عوام سے دور تھیں، ان کا ڈیزائن حکومت مرکزیت پر مبنی تھا۔ عام آدمی عدالت میں جاتے ہی گھبرا جاتا ہے۔ کئی طریقہ کار اتنے تکنیکی ہیں کہ انصاف تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی ہندوستانی عدلیہ وہ ہوگی جو سادہ ہو، ڈیجیٹل ہو، دیہی شہری بھی بغیر خوف کے اسے استعمال کر سکے۔