پٹنہ14نومبر: بہار 2025 کے انتخابات کی چرچا ہر گلی اور نکڑ پر ہورہی ہے۔ ۔ پی ایم مودی اور نتیش کمار کے اتحاد نے ایسی لہر پیدا کر دی کہ جسے این ڈی اے نے ٹکٹ دیا وہ جیت کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ لیکن اس ہنگامہ خیز انتخابی ماحول کے درمیان، ایک شخص جس نے سب سے زیادہ سرخیاں حاصل کیں وہ جیتن رام مانجھی اور ان کا پورا خاندان ہے۔ کہتے ہیں…‘گھر کا چراغ گھر میں روشنی پھیلاتا ہے’ لیکن مانجھی نے پورے محلے کو روشن کر دیا۔ انہوں نے ہندوستان عوامی مورچہ (HAM) کو 6 نشستیں ملیں ۔ پھر کیا تھا، انہوں نے ٹکٹیں خاندان کے بھروسہ مند افراد کو دے دیں۔ اور دیکھو، کرشمہ ۔ 6 میں سے 6سیٹوں پر، ان کے امیدواروں نے کامیابی کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ لوگوں نے مذاق میں کہنا شروع کردیا ، “مانجھی جی الیکشن نہیں ، بلکہ ایک فیملی ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے اور انہوں نے چھ کے چھ چھکے مارے!”
بہو کی جیت:سب سے پہلے بہو دیپا کماری کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے امام گنج سیٹ سے الیکشن لڑا اور تقریباً 25,000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ یہ جیت بحث کا موضوع بن گئی ۔ جہاں ساس ۔ سسر نے سیاست سکھاتے سکھاتے اب بہو بھی چیمپئن بن گئی۔سمدھن کی جیت:اب آتے ہیں سمدھن کی طرف۔ مانجھی کی سمدھن جیوتی دیوی، بودھ گیا سے ملحقہ بارچھٹی سیٹ سے الیکشن لڑ رہی تھیں۔ انہوں نے آسانی سے اپنے سیاسی حریف کو دھول چٹادی۔
داماد کا دمدار کھیل:پھر آتے ہیں داماد – پرفل کمار مانجھی۔ انہوں نے سکندرہ سیٹ سے الیکشن لڑا اور 23000 ووٹوں سے آگے ہیں۔ اٹاری اور کٹمبا سیٹوں پر بھی مانجھی کیمپ کا اثر ایسا تھا کہ نتائج کے اعلان سے پہلے ہی جشن کی تھالیاں سجنے لگیں۔ خاندان کی فتح:مجموعی طور پر اس بار بہار کی سیاست میں مانجھی خاندان نے وہ کر دکھایا ج جسے لوگ آنے والے کئی برسوں تک یاد رکھیں گے۔ جہاں این ڈی اے کے امیدوار مودی-نتیش لہر میں آسانی سے جیت رہے تھے، مانجھی خاندان نے اپنی “خاندانی طاقت” سے کہانی کو مزید دلچسپ بنا دیا۔