پٹنہ5نومبر: بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے سے قبل مہاگٹھ بندھن میں ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سربراہ اور مہاگٹھ بندھن کے نائب وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار مکیش سہنی کے بھائی سنتوش سہنی نے دربھنگہ ضلع کی گورابورام اسمبلی سیٹ سے اپنی امیدواری واپس لے لی ہے۔ سنتوش سہنی کی دستبرداری کے بعد آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے مگر ہم ان سے الگ نہیں ہیں۔ تیجسوی یادو نے کہا، ’’ہم ایک ہیں اور ہمارا مقصد بھی ایک ہے۔ میں ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں اور ان کی نیت پر مکمل بھروسہ ہے۔‘‘ گورابورام نشست پر مہاگٹھ بندھن کے دو اتحادی، آر جے ڈی اور وی آئی پی، کے درمیان ایک ’فرینڈلی فائیٹ‘ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ آر جے ڈی نے یہاں سے افضل علی خان کو امیدوار بنایا تھا، جبکہ سنتوش سہنی وی آئی پی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں تھے۔ تاہم، ووٹنگ سے قبل ہی انہوں نے دستبرداری کا اعلان کر دیا، جس سے مہاگٹھ بندھن کے اندرونی تنازع کا خاتمہ ہوگیا۔
بدھ کے روز مکیش سہنی نے ایک میں اپنے بھائی کی امیدواری واپس لینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی آر جے ڈی امیدوار افضل علی خان کو باضابطہ حمایت دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، ’’بہار میں تبدیلی کی جدوجہد اور سماجی انصاف کے قیام کی راہ آسان نہیں ہے۔ کبھی کبھار بڑے مقصد کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ سنتوش سہنی نے گورابورام کے عوام اور بہتر بہار کے مفاد میں بڑا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ مکیش سہنی نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بہار کے روشن مستقبل اور سماجی انصاف کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ برابری، احترام اور حقوق کی آواز مزید مضبوط ہو۔ مہاگٹھ بندھن متحد ہے اور ہم مل کر بہار میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں۔‘‘