ممبئی 30اکتوبر:ممبئی کے پوئی علاقے میں جمعرات کو اس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک شخص نے آڈیشن کے بہانے 17 بچوں کو اسٹوڈیو میں یرغمال بنا لیا۔ یہ واقعہ آر اے اسٹوڈیو میں پیش آیا، جہاں بچوں کو شوٹنگ کے نام پر بلایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق خود کو روہت آریہ بتانے والے اس شخص نے اسٹوڈیو کے اندر داخل ہوتے ہی دروازے بند کر لیے اور بچوں کو باہر جانے سے روک دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ اسٹوڈیو کے باہر بچوں کے والدین بے چینی کے عالم میں جمع ہو گئے، جبکہ پولیس اور اسپیشل کمانڈو فورس موقع پر پہنچ گئی۔ جوائنٹ کمشنر ستیہ نارائن چودھری نے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام 17 بچوں کو بحفاظت آزاد کرا لیا اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق روہت آریہ ذہنی دباؤ یا کسی نفسیاتی کشمکش کا شکار معلوم ہوتا ہے۔ اس نے واقعے کے دوران ایک ویڈیو جاری کی جس میں اس نے کہا، ’’میں روہت آریہ ہوں۔ خودکشی کرنے کی جگہ میں نے ایک پلان بنایا۔ چند بچوں کو ہاسٹیج بنایا ہے۔ میری کوئی بڑی ڈیمانڈ نہیں، صرف چند سوال ہیں۔ نہ میں دہشت گرد ہوں اور نہ مجھے پیسے چاہییں۔‘‘ اس ویڈیو میں وہ مزید کہتا ہے، ’’میں اکیلا نہیں ہوں، میرے ساتھ کئی لوگ ہیں۔ میں بات چیت کے ذریعے حل نکالنے آیا ہوں۔
‘‘ تاہم پولیس نے بعد میں تصدیق کی کہ واقعے میں وہ اکیلا ہی تھا اور اس کے کسی ساتھی کے شامل ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ پولیس کو یہ اطلاع دوپہر پونے دو بجے ملی تھی کہ اسٹوڈیو میں ایک شخص نے بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اطلاع دینے والوں نے بتایا کہ وہاں ایک ایئر گن اور کچھ مشتبہ کیمیکل بھی دکھائی دے رہے تھے۔ فوراً اسپیشل فورس کو متحرک کیا گیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔









