پٹنہ 29اکتوبر:بہار میں اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں انتہائی عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ آج لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی بہار کی زمین پر باضابطہ انتخابی تشہیر میں قدم رکھ دیا۔ وہ بہار کے مظفر پور میں تیجسوی یادو کے ساتھ انتخابی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے نظر آئے، جہاں بے روزگاری، ووٹ چوری، میڈ اِن چائنا جیسے ایشوز پر پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بھی خوب نشانہ بنایا۔ مظفر پور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ریاست کے نوجوان مایوسی کی زد میں ہیں۔ میں جہاں جاتا ہوں وہاں بہار کے نوجوان ملتے ہیں۔ نتیش کمار 20 سال سے حکومت میں ہیں، لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ بہار کے نوجوان کو بہار میں ہی موقع نہیں ملتا۔ بہاریوں کا بہار میں مستقبل نظر نہیں آ رہا۔ راہل گاندھی نے تیجسوی یادو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہار کو آگے لے جانا چاہتے ہیں، ان کے پاس ویژن ہے اور مہاگٹھ بندھن کی پارٹیاں ایک ساتھ مل کر بہار کے حالات بدلیں گے۔ نتیش کمار کو محض کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کا ریموٹ کنٹرول بی جے پی کے ہاتھ میں ہے۔ نتیش جی کے چہرے کا استعمال ہو رہا ہے۔ آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ انتہائی پسماندہ کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔ تین چار لوگ ہیں جو سارا کنٹرول کر رہے ہیں۔ بی جے پی سب کچھ کنٹرول کرتی ہے۔ ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہے اور انھیں سماجی انصاف سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں نے لوک سبھا میں وزیر اعظم کے سامنے کہا تھا کہ آپ ذات پر مبنی مردم شماری کرائیے، انھوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ بی جے پی سماجی انصاف کے خلاف ہے، وہ ایسا کچھ چاہتے ہی نہیں۔ وزیر اعلیٰ سے متعلق راہل گاندھی نے کہا کہ ’’نتیش کمار خود کو انتہائی پسماندہ کہتے ہیں، بتائیے انھوں نے گزشتہ 20 سالوں میں بہار میں تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے کیا کیا ہے؟ کیا ااپ ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں آپ کو کچھ نہ ملے؟ ہمیں ایسا بہار نہیں چاہیے۔ ہمیں ایسا بہار چاہیے جہاں صحت، تعلیم اور روزگار ہو۔‘‘